کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: کافر کے اسلام لانے پر غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 805
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، وَأَبُو الْأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، أنا عُبَيْدُ اللهِ، وَعَبْدُ اللهِ ابْنَا عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ ثُمَامَةَ الْحَنَفِيَّ أُسِرَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْدُو إِلَيْهِ فَيَقُولُ: " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ " فَيَقُولُ: إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَمُنَّ تَمُنَّ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تُرِدِ الْمَالَ نُعْطِكَ مِنْهُ مَا شِئْتَ وَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّونَ الْفِدَاءَ، وَيَقُولُونَ: مَا نَصْنَعُ بِقَتْلِ هَذَا فَمَرَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَسْلَمَ فَحَلَّهُ، وَبَعَثَ بِهِ إِلَى حَائِطِ أَبِي طَلْحَةَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ حَسُنَ إِسْلَامُ أَخِيكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ثمامہ حنفی قید کیا گیا، نبی ﷺ اس کے پاس جاتے تو فرماتے: ”اے ثمامہ! تیرے پاس کیا ہے؟“ وہ کہتا: اگر آپ قتل کریں گے تو خون والے (یعنی اس کے قبیلے والے) قتل کریں گے اور آپ احسان کریں گے تو شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ مال کا ارادہ رکھتے ہیں تو جو چاہیں گے وہی ہم دیں گے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فدیہ کو پسند کرتے تھے اور کہتے تھے: ہم اس کو قتل کر کے کیا کریں گے۔ نبی ﷺ ایک دن اس کے پاس سے گزرے تو وہ مسلمان ہو گیا، آپ ﷺ نے اس کو کھول دیا اور ابوطلحہ کے باغ کی طرف بھیجا اور اس کو حکم دیا کہ غسل کرے، اس نے غسل کیا اور دو رکعت نماز ادا کی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بھائی کا اسلام بہترین ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 805
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة 253»
حدیث نمبر: 806
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ: أَخْبَرَكَ أَبُوكَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أَثَالٍ سَيِّدُ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ " فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ " وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ، وَفِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ الْغُسْلُ قَبْلَ ⦗٢٦٥⦘ الشَّهَادَةِ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَسْلَمَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اغْتَسَلَ وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَاظْهَرَ الشَّهَادَةَ جَمْعًا بَيْنَ الرِّوَايَتَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابوسعید مقبری نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا تو وہ بنو حنیفہ قبیلے سے ایک شخص کو لے آئے جو ثمامہ بن اثال یمامہ کا سردار تھا، صحابہ نے انہیں مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا، اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ثمامہ کو چھوڑ دو۔“ تو وہ مسجد کے قریب کھجور کے درخت کی طرف گیا، اس نے غسل کیا پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور بے شک محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔“ اور باقی حدیث ذکر کی۔
(ب) صحیح بخاری میں ہے کہ غسل شہادت سے پہلے ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس نے نبی ﷺ کے پاس اسلام قبول کیا، پھر غسل کیا اور مسجد میں داخل ہوا اور شہادت کا اقرار کیا، یہ بات دونوں روایات میں تطبیق ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 806
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 450»
حدیث نمبر: 807
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْمُجَوِّزُ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ " أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ". هَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَرَوَاهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور مسلمان ہو گئے تو نبی ﷺ نے انہیں ”پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل کرنے“ کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 807
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه الترمذي 605»
حدیث نمبر: 808
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ جَدَّهُ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ " أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يُسْلِمَ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ". وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ وَجَمَاعَةٌ إِلَّا أَنَّ أَكْثَرَهُمْ قَالُوا: عَنْ جَدِّهِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، وَرَوَاهُ قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ فَزَادَ فِي إِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور مسلمان ہونے کا ارادہ رکھتے تھے تو نبی ﷺ نے انہیں ”پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کرنے“ کا حکم دیا۔ (ب) اس کے ہم معنی روایت محمد بن کثیر اور ایک جماعت نے بیان کی ہے، ان میں سے اکثر بیان کرتے ہیں کہ ان کے دادا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 808
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 809
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَغَرِّ وَهُوَ ابْنُ الصَّبَّاحِ وَهُوَ مَوْلَى بَنِي مِنْقَرٍ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَدَّهُ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ " أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءِ سِدْرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور مسلمان ہو گئے، تو نبی ﷺ نے ان کو ”پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل کرنے“ کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 809
درجۂ حدیث محدثین: منكر الاسناد
تخریج حدیث «منكر الاسناد»
حدیث نمبر: 810
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، فَذَكَرَهُ هَكَذَا.
حافظ ثناء اللہ
قبیصہ بن عقبہ رحمہ اللہ نے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 810
درجۂ حدیث محدثین: منكر الاسناد
تخریج حدیث «منكر الاسناد»
حدیث نمبر: 811
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ، عَنْ عُثَيْمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ أَسْلَمْتُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ " يَقُولُ احْلِقْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي آخَرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِآخَرَ مَعَهُ: " أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ وَاخْتَتِنْ ".
حافظ ثناء اللہ
عثیم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: میں مسلمان ہو گیا ہوں۔ ان سے نبی ﷺ نے فرمایا: ”اپنے آپ سے کفر کے بال پھینک دے۔“ (آپ کی مراد تھی کہ بال منڈوا دے)۔ راوی کہتا ہے کہ ایک دوسرے راوی نے مجھے خبر دی کہ نبی ﷺ نے اس دوسرے شخص سے فرمایا جو ان کے ساتھ تھا: ”اپنے آپ سے کفر کے بال پھینک دے اور ختنہ کروا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 811
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيرهٖ
تخریج حدیث «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 356»