کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: آدمی کا اپنی بیوی کو بغیر شہوت کے یا کسی آڑ (کپڑے وغیرہ) کے پیچھے سے چھونے یا دبانے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 615
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ⦗٢٠٤⦘ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ بُنْدَارٍ الزَّاهِدُ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَحِيرٍ، نا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، نا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " بِئْسَ مَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يُصَلِّي وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلِيَّ فَقَبَضْتُهُمَا ". لَفْظُ حَدِيثِ عَمْرٍو. وَفِي حَدِيثِ الْمُقَدَّمِيِّ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَنِي، فَقَبَضْتُ رِجْلِيَّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ. وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ: حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ مَسَّنِي بِرِجْلِهِ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي، فَقَبَضْتُ رِجْلِيَّ. وَفِي رِوَايَةِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: برا ہے جو تم نے ہمیں کتے اور گدھے کے ساتھ ملا دیا ہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتی تھی، جب آپ ﷺ سجدے کا ارادہ کرتے تو میرے پاؤں کو کچوکا مارتے، میں انھیں سمیٹ لیتی۔
(ب) مقدمی کی حدیث میں اس طرح ہے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور میں آپ ﷺ کے سامنے لیٹی ہوئی ہوتی تھی، جب آپ تشہد کا ارادہ کرتے میرے پاؤں کو کچوکا مارتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی۔
(ج) عبد الرحمن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ ﷺ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو میرے پاؤں کو چھوتے۔
(د) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو مجھے کچوکا مارتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی۔
(ھ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو آپ ﷺ مجھے بیدار کر دیتے اور میں بھی وتر پڑھتی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 615
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 489»