أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: قِيلَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ فَقَالَتْ: " بِمَا أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ، وَقَدْ رَأَيْتُهُ دَعَا بِطَسْتٍ لِيَبُولَ فِيهَا وَأَنَا مُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي، فَانْخَنَثَ أَوْ قَالَتْ: فَانْخَنَثَ فَمَاتَ وَمَا شَعَرْتُ، فَبِمَ يَقُولُ هَؤُلَاءِ أَنَّهُ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ؟ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَزْهَرَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، وَإِبْرَاهِيمُ هَذَا يُقَالُ هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ التَّيْمِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
اسود کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: علی رضی اللہ عنہ کو کس چیز کی وصیت کی ہے؟ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے ایک تھال منگوایا تاکہ اس میں پیشاب کریں اور میں نے آپ ﷺ کو اپنے سینے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی، آپ ﷺ (ایک طرف) جھک گئے، پھر آپ ﷺ وفات پا گئے اور مجھے پتا بھی نہ چلا، تو یہ لوگ کس بنیاد پر کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی ہے؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، نا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حُكَيْمَةَ بِنْتِ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، عَنْ أُمِّهَا، قَالَتْ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَحٌ مِنْ عِيدَانَ تَحْتَ سَرِيرِهِ يَبُولُ فِيهِ بِاللَّيْلِ ".
حافظ ثناء اللہ
حکیمہ بنت امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا اپنی والدہ سے نقل فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کا ایک لکڑی کا پیالہ تھا جو آپ ﷺ کی چارپائی کے نیچے ہوتا تھا، رات کو آپ ﷺ اس میں پیشاب کر لیا کرتے تھے۔