أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمِشٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ قَالَ: " غُفْرَانَكَ " ⦗١٥٧⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بیت الخلاء سے نکلتے تو یہ کہتے: «غُفْرَانَكَ» ”اے اللہ! مجھے معاف کر دے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
اسرائیل بن یونس رحمہ اللہ اسی طرح ہی نقل فرماتے ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، نا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، وَذَكَرَ فِيهِ سَمَاعَ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا،.
حافظ ثناء اللہ
اسرائیل بن یونس اسی طرح بیان فرماتے ہیں اور اس میں ابو بردہ کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع کا ذکر ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ.
حافظ ثناء اللہ
اسرائیل رحمہ اللہ نے اسی طرح بیان کیا ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، وَزَادَ فِيهِ {غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ} [البقرة: ٢٨٥]، قَالَ ابْنُ خُزَيْمَةَ: وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَمْ أَجِدْهَا إِلَّا فِي رِوَايَةِ ابْنِ خُزَيْمَةَ وَهُوَ إِمَامٌ، وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي نُسْخَةٍ قَدِيمَةٍ لِكِتَابِ ابْنِ خُزَيْمَةَ لَيْسَ فِيهِ هَذِهِ الزِّيَادَةُ، ثُمَّ أُلْحِقَتْ بِخَطٍّ آخَرَ بِحَاشِيَتِهِ، فَالْأَشْبَهُ أَنْ تَكُونَ مُلْحَقَةً بِكِتَابِهِ مِنْ غَيْرِ عِلْمِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ الصَّابُونِيُّ، أَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: ثنا جَدِّي، فَذَكَرَهُ دُونَ هَذِهِ الزِّيَادَةِ فِي الْحَدِيثِ، وَصَحَّ بِذَلِكَ بُطْلَانُ هَذِهِ الزِّيَادَةِ فِي الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن ابو بکیر رحمہ اللہ اسی سند سے بیان کرتے ہیں اور یہ اضافہ کرتے ہیں: ﴿غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ﴾ [سورة البقرة: 285] ”اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے“ [باطل]
(ب) امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسرائیل رحمہ اللہ سے اسی سند کے ساتھ منقول ہے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ زیادتی صرف امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی روایت میں ملی ہے۔ پھر میں نے ابن خزیمہ رحمہ اللہ کے قدیم نسخہ کو دیکھا تو اس میں یہ زیادتی نہیں تھی، پھر کسی دوسری لکھائی میں اس کو حاشیہ میں ملا دیا گیا۔ زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ یہ الحاق ان کے علم کے بغیر ان کی کتاب میں کر دیا گیا ہو۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے“۔
(ج) امام ابو عثمان صابونی رحمہ اللہ نے ابن خزیمہ کے پوتے ابو طاہر کے واسطے سے ان کے دادا سے یہ حدیث اس زیادتی کے بغیر روایت کی ہے، اور اس سے حدیث میں اس زیادتی کا باطل ہونا ثابت ہو گیا۔
(ب) امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسرائیل رحمہ اللہ سے اسی سند کے ساتھ منقول ہے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ زیادتی صرف امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی روایت میں ملی ہے۔ پھر میں نے ابن خزیمہ رحمہ اللہ کے قدیم نسخہ کو دیکھا تو اس میں یہ زیادتی نہیں تھی، پھر کسی دوسری لکھائی میں اس کو حاشیہ میں ملا دیا گیا۔ زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ یہ الحاق ان کے علم کے بغیر ان کی کتاب میں کر دیا گیا ہو۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے“۔
(ج) امام ابو عثمان صابونی رحمہ اللہ نے ابن خزیمہ کے پوتے ابو طاہر کے واسطے سے ان کے دادا سے یہ حدیث اس زیادتی کے بغیر روایت کی ہے، اور اس سے حدیث میں اس زیادتی کا باطل ہونا ثابت ہو گیا۔