کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بیت الخلاء میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو کیا پڑھے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 452
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا مُوسَى، ثنا حَمَّادُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، نا دَاودُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ قَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ ". قَالَ الْبُخَارِيُّ: قَالَ مُوسَى، عَنْ حَمَّادٍ، فَذَكَرَهُ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ غُنْدَرُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ: إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ. وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ: إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو کہتے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے شیطان جنوں اور جنیوں سے پناہ مانگتا ہوں۔“
(ب) عبد العزیز یہ الفاظ بیان کرتے ہیں: ”جب بیت الخلاء آتے۔“
(ج) عبد العزیز یہ الفاظ بھی بیان کرتے ہیں: ”جب بیت الخلاء میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے۔“
(ب) عبد العزیز یہ الفاظ بیان کرتے ہیں: ”جب بیت الخلاء آتے۔“
(ج) عبد العزیز یہ الفاظ بھی بیان کرتے ہیں: ”جب بیت الخلاء میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے۔“
حدیث نمبر: 453
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ الْخَلَاءَ قَالَ: " أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بیت الخلاء داخل ہونے کا ارادہ کرتے تو کہتے: ”«أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں خبیثوں اور خبیثنیوں سے۔“
حدیث نمبر: 454
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاودَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ، فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ ". وَهَكَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ عَلَيَّةَ، وَأَبُو الْجَمَاهِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ. وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ وَجَمَاعَةٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَقَالَ أَبُو عِيسَى: قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي الْبُخَارِيَّ أَيُّ الرِّوَايَاتِ عِنْدَكَ أَصَحُّ؟ فَقَالَ: لَعَلَّ قَتَادَةَ سَمِعَ مِنْهُمَا جَمِيعًا، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَلَمْ يقْضِ فِي هَذَا بِشَيْءٍ. قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَقِيلَ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَهُوَ وَهْمٌ. قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ: الْخُبُثُ بِضَمِّ الْبَاءِ جَمَاعَةُ الْخَبِيثِ وَالْخَبَائِثِ جَمْعُ الْخَبِيثَةِ يُرِيدُ ذُكْرَانَ الشَّيَاطِينِ وَإِنَاثِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیت الخلاء میں شیاطین حاضر ہوتے ہیں۔ لہٰذا جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء جائے تو وہ «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے“ کہے۔“
(ب) امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ نے اپنے استاد امام اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا: ”تمہارے نزدیک کون سی روایت زیادہ صحیح ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”شاید قتادہ نے دونوں سے اکٹھے سنا۔“
(ج) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک سند اس طرح ہے: «عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ» اور یہ راوی کا وہم ہے۔
(د) ابو سلیمان رحمہ اللہ نے باء کے ضمہ کے ساتھ «خُبُثٌ» پڑھا ہے، «خُبُثٌ» خبیث کی اور «خَبَائِثُ» خبیثہ کی جمع ہے، یعنی ان کی مراد شیاطین مذکر اور مونث ہیں۔
(ب) امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ نے اپنے استاد امام اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا: ”تمہارے نزدیک کون سی روایت زیادہ صحیح ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”شاید قتادہ نے دونوں سے اکٹھے سنا۔“
(ج) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک سند اس طرح ہے: «عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ» اور یہ راوی کا وہم ہے۔
(د) ابو سلیمان رحمہ اللہ نے باء کے ضمہ کے ساتھ «خُبُثٌ» پڑھا ہے، «خُبُثٌ» خبیث کی اور «خَبَائِثُ» خبیثہ کی جمع ہے، یعنی ان کی مراد شیاطین مذکر اور مونث ہیں۔