حدیث نمبر: 446
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، نا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: " أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ، فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ " يَعْنِي حَائِطَ نَخْلٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا، آپ ﷺ نے میرے ساتھ ایک پوشیدہ بات کی، وہ بات میں لوگوں سے بیان نہیں کروں گا اور رسول اللہ ﷺ کو قضائے کے لیے کسی رکاوٹ (پتھر وغیرہ) سے یا کھجوروں کے باغ میں چھپ جانا بہت پسند تھا۔
حدیث نمبر: 447
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ مِهْرَانَ السِّمْسَارُ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ فِي مَسْجِدِهِ، فَذَكَرَ قِصَّتَهُ قَالَ: فَقَالَ جَابِرٌ: فَذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يقْضِي حَاجَتَهُ فَاتَّبَعْتُهُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا يَتَسَتَّرُ بِهِ، فَإِذَا شَجَرَتَانِ بِشَاطِيءِ الْوَادِي، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، فَأَخَذَ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا، فَقَالَ: " انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى ". فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهُ، حَتَّى أَتَى الشَّجَرَةَ الْأُخْرَى، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، فَقَالَ: " انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى ". فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَذَلِكَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْمَنْصَفِ فِيمَا بَيْنَهُمَا لَأَمَ بَيْنَهُمَا يَعْنِي جَمَعَهُمَا فَقَالَ: " الْتَئِمَا عَلَيَّ بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى ". ⦗١٥٣⦘ فَالْتَأَمَتَا. قَالَ جَابِرٌ: فَجَلَسْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِي، فَحَانَتْ مِنِّي لَفْتَةٌ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ، وَإِذَا الشَّجَرَتَانِ قَدِ افْتَرَقَتَا، فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلَى سَاقٍ، وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے گئے تو میں آپ ﷺ کے پیچھے پانی کا ایک ڈول لے کر گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے دیکھا تو رسول اللہ ﷺ نے کوئی ایسی چیز نہ دیکھی جس کی اوٹ میں چھپ جائیں، وادی کے کنارے پر دو درخت تھے، رسول اللہ ﷺ ان میں سے ایک کی طرف گئے اور اس کی ایک ٹہنی پکڑ کر فرمایا: ”اللہ کے حکم پر میری مطیع بن جا۔“ تو وہ آپ ﷺ کے ساتھ ایسے مطیع ہوگئی جیسے تابع اونٹ ہوتا ہے جو اپنے قائد کے ساتھ چلا کرتا ہے یہاں تک کہ آپ ﷺ دوسرے درخت کے پاس آئے اور اس کی ایک ٹہنی کو پکڑ کر فرمایا: ”اللہ کے حکم کے ساتھ میرے لیے مطیع ہوجا۔“ تو وہ بھی اسی طرح مطیع ہوگئی۔ آپ ﷺ نے ان دونوں کو ملاتے ہوئے ان سے کہا: ”تم دونوں مجھ پر اللہ کے حکم سے متحد و متفق ہو جاؤ۔“ تو وہ دونوں جڑ گئیں، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بیٹھ کر اپنے آپ سے باتیں کررہا تھا، میں نے ایک نظر دیکھا تو رسول اللہ ﷺ اچانک سامنے تھے اور درخت الگ الگ ہوگئے تھے اور ہر ایک اپنی اپنی جگہ پر تھا۔
حدیث نمبر: 448
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِهْرَجَانِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَعَمْرُو بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَا: نا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُصَيْنٍ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ يَجْمَعُهُ، ثُمَّ يَسْتَدْبِرُهُ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ يَلْعَبُونَ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جو قضائے حاجت کو جائے تو وہ چھپ جائے۔ اگر کوئی چیز نہ پائے تو ریت کا ایک ٹیلہ اکٹھا کرے پھر اس کی طرف پیٹھ کرے؛ اس لیے کہ شیطان بنی آدم کی شرم گاہوں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ جس نے ایسے کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں۔“