کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: قضائے حاجت کے لیے خلوت اختیار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 443
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: " كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَكَانَ إِذَا ذَهَبَ أَبْعَدَ فِي الْمَذْهَبِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، جب آپ ﷺ (قضائے حاجت کو) جاتے تو بہت دور جاتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 443
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 1»
حدیث نمبر: 444
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْبَرَازَ تَبَاعَدَ حَتَّى لَا يَرَاهُ أَحَدٌ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ وَلَا شَجَرٌ، فَقَالَ لِي: " يَا جَابِرُ، خُذِ الْإِدَاوَةَ وَانْطَلِقْ بِنَا ". فَمَلَأْتُ الْإِدَاوَةَ مَاءً، وَانْطَلَقْنَا، فَمَشَيْنَا حَتَّى لَا نَكَادُ نُرَى، فَإِذَا شَجَرَتَانِ بَيْنَهُمَا أَذْرُعٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا جَابِرُ، انْطَلِقْ فَقُلْ لِهَذِهِ الشَّجَرَةِ: يَقُولُ لَكِ رَسُولُ اللهِ: الْحَقِي بِصَاحِبَتِكِ حَتَّى أَجْلِسَ خَلْفَكُمَا " فَفَعَلْتُ، فَرَجَفَتْ حَتَّى لَحِقَتْ بِصَاحِبَتِهَا، فَجَلَسَ خَلْفَهُمَا حَتَّى قَضَى حَاجَتَهُ " وَرُوِيَ فِي إبْعَادِ الْمَذْهَبِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھا، جب آپ ﷺ قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تو دور چلے جاتے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو کوئی بھی نہ دیکھتا۔ ہم ایک صاف زمین میں اترے جس میں کوئی نشان اور درخت نہ تھا (صحرا وغیرہ)۔ آپ ﷺ نے مجھے فرمایا: ”اے جابر! برتن پکڑ اور میرے ساتھ چل۔“ میں نے پانی کا برتن بھرا، ہم پیدل ہی چلے یہاں تک کہ ہم اتنے قریب نہ رہے کہ دیکھے جائیں۔ دو درخت الگ الگ تھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے جابر! جا اور اس درخت کو کہہ: تم کو رسول اللہ کہہ رہے ہیں کہ اپنے ساتھی (درخت) سے مل جاؤ، تاکہ میں تم دونوں کے پیچھے بیٹھ جاؤں۔“ میں نے ایسے ہی کہا جیسے آپ ﷺ نے فرمایا تھا۔ اس درخت نے حرکت کی اور اپنے ساتھی درخت سے مل گیا۔ آپ ﷺ ان کے پیچھے بیٹھے اور اپنی حاجت کو پورا کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 444
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بشواهده أخرجه الدارمي 17»