کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: استطابت (قضائے حاجت اور پاکی حاصل کرنے) کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: پیشاب یا پاخانے کے لیے قبلہ رخ ہونے یا قبلے کی طرف پیٹھ کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 428
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: " لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ لِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا ". وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قضائے حاجت یا پیشاب کے لیے تم اپنا منہ اور پیٹھ قبلہ کی طرف نہ کرو“ اور دوسری مرتبہ نبی ﷺ تک مرفوع بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 429
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، نا أَبُو مُسْلِمٍ، نا الْقَعْنَبِيُّ، وَالرَّمَادِيُّ يَعْنِي إِبْرَاهِيمَ بْنَ بَشَّارٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَزَادَ فِيهِ: " وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا ". قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: فَقَدِمْنَا الشَّامَ، فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ، فَكُنَّا نَنْحَرِفُ عَنْهَا وَنَسْتَغْفِرُ اللهَ تَعَالَى. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سفیان اسی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:۔۔۔ اس حدیث میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: ”لیکن مشرق اور مغرب کی طرف (منہ کرلو)۔“ ابو ایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم ملکِ شام آئے تو ہم نے بیت الخلاء دیکھے جو قبلے کی طرف بنائے گئے تھے۔ ہم ان سے انحراف کرتے تھے اور اللہ کے حضور استغفار کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 430
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ؟ قَالَ: فَقَالَ: " أَجَلْ، لَقَدْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ان سے کہا گیا:) تحقیق تمہارے نبی ﷺ نے تم کو ہر چیز سکھلائی ہے یہاں تک کہ قضائے حاجت کا طریقہ بھی۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: «نَعَمْ» ”جی ہاں!“ بلاشبہ ہم کو منع کیا ہے کہ ”قضائے حاجت یا پیشاب کرتے وقت اپنا منہ قبلہ کی طرف کریں، یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں، یا تین ڈھیلوں سے کم استنجا کریں، یا گوبر اور ہڈی سے استنجا کریں۔“
حدیث نمبر: 431
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَاذَانَ بِبَغْدَادَ، قَالَا: أنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، نا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ، فَإِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا، وَإِذَا اسْتَطَابَ فَلَا يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ ". " وَكَانَ يَأْمُرُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَيَنْهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارے لیے باپ کی طرح ہوں، جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لیے جائے تو وہ نہ قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ ہی پیٹھ اور جب استنجا کرے تو دائیں ہاتھ سے نہ کرے“ اور آپ ﷺ تین ڈھیلوں کا حکم دیا کرتے تھے اور گوبر اور بوسیدہ ہڈی سے منع کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 432
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ، فَإِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا، وَلَا يَسْتَنْجِ بِيَمِينِهِ ". " وَكَانَ يَأْمُرُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَيَنْهَى عَنِ الرَّوْثِ، وَالرِّمَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک میں تمہارے لیے باپ کی طرح ہوں، میں تم کو سکھلاتا ہوں، تو جب تم سے کوئی بیت الخلا جائے تو وہ قبلہ کی طرف منہ نہ کرے اور نہ ہی پیٹھ کرے اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے“ اور آپ ﷺ تین ڈھیلوں کا حکم دیا کرتے تھے اور گوبر اور بوسیدہ ہڈی سے منع کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 433
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، نا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: " أُعَلِّمُكُمْ". قَالَ: " فَإِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا لِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ، وَلْيَسْتَنْجِ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ". " وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عجلان اسی سند سے بیان کرتے ہیں مگر انہوں نے «أُعَلِّمُكُمْ» کے الفاظ ذکر نہیں کیے، فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت یا پیشاب کے لیے جائے تو وہ قبلہ کی طرف نہ منہ کرے اور نہ ہی پیٹھ، اور تین ڈھیلوں سے استنجا کرے“ اور آپ ﷺ نے گوبر اور بوسیدہ ہڈی (سے استنجا کرنے سے) منع فرما دیا۔
حدیث نمبر: 434
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، نا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وَهَيْبٌ، نا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِبَوْلٍ أَوْ بِغَائِطٍ " أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاودَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. قَالَ أَبُو دَاودَ: " أَبُو زَيْدٍ هُوَ مَوْلًى لِبَنِي ثَعْلَبَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
معقل بن ابی معقل اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”قضائے حاجت یا پیشاب کرنے کے لیے دونوں قبلوں کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا۔“