حدیث نمبر: 318
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا يَوْمًا بِوَضُوءٍ، فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". ⦗١١٢⦘ رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ، وَأَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ایک دن پانی منگوا کر وضو کیا، اپنی ہتھیلیوں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر اسی طرح بائیں ہاتھ کو دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دائیں پاؤں کو ٹخنوں سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر اسی طرح بائیں پاؤں کو دھویا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک دن اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میرے اس وضو جیسا وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھیں اور اپنے دل میں کوئی خیال پیدا نہیں ہونے دیا تو اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“
حدیث نمبر: 319
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أَنَا الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، أنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قَالَا: أَتَانَا عَلِيٌّ وَقَدْ صَلَّى فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقُلْنَا: مَا يَصْنَعُ بِالطَّهُورِ وَقَدْ صَلَّى؟ مَا يُرِيدُ إِلَّا لِيُعَلِّمَنَا، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ، فَأَفْرَغَ مِنَ الْإِنَاءِ عَلَى يَمِينِهِ فَغَسَلَ يَدَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، مَضْمَضَ وَنَثَرَ مِنَ الْكَفِّ الَّذِي يَأْخُذُ مِنْهُ الْمَاءَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا، ثُمَّ جَعَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَرِجْلَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ هَذَا ".
حافظ ثناء اللہ
عبد خیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے، آپ نے نماز پڑھی، پھر پانی منگوایا۔ ہم نے عرض کیا: آپ پانی سے کیا کریں گے حالانکہ آپ نے نماز پڑھ لی ہے؟ وہ ہمیں وضو کا طریقہ سکھلانا چاہتے تھے، چنانچہ ایک برتن اور تھال لایا گیا، جس میں پانی تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے برتن سے اپنے دائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اس کو تین مرتبہ دھویا، پھر کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، آپ کلی اور ناک اسی ہتھیلی سے جھاڑتے جس سے پانی لیتے تھے، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے دائیں اور بائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں بایاں پاؤں تین مرتبہ دھویا پھر فرمایا: ”جس کو پسند ہو کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا وضو جانے تو یہی آپ ﷺ کا وضو ہے۔“