حدیث نمبر: 291
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ الْأَحَادِيثِ لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ عُثْمَانَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے تین تین مرتبہ وضو کیا (یعنی ہر عضو کو تین بار دھویا)۔
حدیث نمبر: 292
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ، ⦗١٠٣⦘ ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ، قَالَ: تَوَضَّأَ عُثْمَانُ عَلَى الْمَقَاعِدِ ثَلَاثًا. وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ. ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يُصَلِّي إِلَّا غَفَرَ اللهُ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى حَتَّى يُصَلِّيَهَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرٍو. وَعَلَى هَذَا اعْتَمَدَ الشَّافِعِيُّ فِي تَكْرَارِ الْمَسْحِ. وَهَذِهِ رِوَايَةٌ مُطْلَقَةٌ، وَالرِّوَايَاتُ الثَّابِتَةُ الْمُفَسِّرَةُ عَنْ حُمْرَانَ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ التَّكْرَارَ وَقَعَ فِيمَا عَدَا الرَّأْسِ مِنَ الْأَعْضَاءِ، وَأَنَّهُ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ أَحَادِيثُ عُثْمَانَ الصِّحَاحُ كُلُّهَا تَدُلُّ عَلَى مَسْحِ الرَّأْسِ أَنَّهُ مَرَّةً، فَإِنَّهُمْ ذَكَرُوا الْوُضُوءَ ثَلَاثًا، وَقَالُوا فِيهَا: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَلَمْ يَذْكُرُوا عَدَدًا كَمَا ذَكَرُوا فِي غَيْرِهِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ غَرِيبَةٍ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذِكْرُ التَّكْرَارِ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ إِلَّا أَنَّهَا مَعَ خِلَافِ الْحُفَّاظِ الثِّقَاتِ لَيْسَتْ بِحُجَّةٍ عِنْدَ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ، وَإِنْ كَانَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا يَحْتَجُّ بِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حمران رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے کی جگہ پر تین مرتبہ وضو کیا اور فرمایا: اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے دوسری نماز کے درمیان والے گناہوں کو معاف کردیتا ہے، یہاں تک وہ نماز ادا کرلے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے مسح کے تکرار میں اس حدیث کو دلیل بنایا ہے، یہ روایت مطلق ہے اور وہ روایات جو مفسر ہیں ان کے راوی سیدنا حمران رحمہ اللہ ہیں۔ ان میں سر کے علاوہ باقی اعضاء میں تکرار کا ذکر ہے۔
(ج) امام ابو داؤد سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ والی تمام روایات صحیح ہیں، ان میں سر کے مسح کا ایک مرتبہ ذکر ہے۔ یعنی احادیث میں باقی اعضاء تین مرتبہ دھونے کا ذکر ہے اور سر کے مسح کا ایک مرتبہ۔
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سندِ غریب کے ساتھ منقول روایات میں مسح کے تکرار کا ذکر ہے، لیکن یہ روایات ثقہ حفاظ کے خلاف ہیں اور محدثین کے نزدیک قابلِ حجت نہیں، اگرچہ ہمارے بعض اصحاب نے دلیل پکڑی ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے مسح کے تکرار میں اس حدیث کو دلیل بنایا ہے، یہ روایت مطلق ہے اور وہ روایات جو مفسر ہیں ان کے راوی سیدنا حمران رحمہ اللہ ہیں۔ ان میں سر کے علاوہ باقی اعضاء میں تکرار کا ذکر ہے۔
(ج) امام ابو داؤد سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ والی تمام روایات صحیح ہیں، ان میں سر کے مسح کا ایک مرتبہ ذکر ہے۔ یعنی احادیث میں باقی اعضاء تین مرتبہ دھونے کا ذکر ہے اور سر کے مسح کا ایک مرتبہ۔
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سندِ غریب کے ساتھ منقول روایات میں مسح کے تکرار کا ذکر ہے، لیکن یہ روایات ثقہ حفاظ کے خلاف ہیں اور محدثین کے نزدیک قابلِ حجت نہیں، اگرچہ ہمارے بعض اصحاب نے دلیل پکڑی ہے۔
حدیث نمبر: 293
مِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ضَحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، وَأنبأ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَرْدَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنِي حُمْرَانُ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ دُونَ وُضُوئِي هَذَا كَفَاهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حمران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے چہرے اور بازوؤں کو تین تین مرتبہ دھویا، اپنے سر کا تین مرتبہ مسح کیا اور اپنے پاؤں کو تین مرتبہ دھویا۔ پھر فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح وضو کیا اور فرمایا: ”جس نے اس وضو سے کم وضو کیا وہ بھی اس کو کفایت کر جائے گا۔“
حدیث نمبر: 294
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ دَارَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ مَنْزِلَهُ، فَسَمِعَنِي أَتَمَضْمَضُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ. قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَهُوَ بِالْمَقَاعِدِ، فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ ⦗١٠٤⦘ قَدْمَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَنْظُرْ إِلَى وُضُوئِي هَذَا ". وَقَدْ ذَكَرَ غَيْرُهُ التَّثْلِيثَ فِي الْقَدْمَيْنِ أَيْضًا.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبداللہ بن ابی مریم فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ابن دارہ کے پاس ان کے گھر گیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: کیا تو کلی کرے گا؟ پھر فرمایا: اے محمد! میں نے کہا: جی! انہوں نے فرمایا: کیا میں تم کو رسول اللہ ﷺ کا وضو نہ بتلاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بیٹھنے کی جگہ دیکھا، انہوں نے ایک برتن منگوایا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا اور تین مرتبہ اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا اور تین مرتبہ سر کا مسح کیا، پھر اپنے قدموں کو دھویا۔ پھر فرمایا: جس شخص کو پسند ہو کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا وضو کا طریقہ دیکھے تو وہ میرے اس وضو کو دیکھ لے۔ ان کے علاوہ (دوسرے راویوں) نے پاؤں کو بھی تین مرتبہ دھونے کا ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 295
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، أنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ يَعْنِي ابْنَ جَمْرَةَ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَتَوَضَّأُ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا، وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا، وَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ، وَغَسَلَ قَدْمَيْهِ ثَلَاثًا، وَخَلَّلَ أَصَابِعَ قَدْمَيْهِ، وَقَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ ".
حافظ ثناء اللہ
شفیق بن سلمہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے تین مرتبہ ہتھیلیوں کو دھویا، پھر کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے بازوؤں کو بھی تین مرتبہ دھویا، اپنے سر کا اور اپنے کانوں کے ظاہری اور اندرونی حصوں کا تین مرتبہ مسح کیا، اپنی داڑھی کا خلال کیا اور اپنے پاؤں کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کا خلال کیا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 296
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَبِيبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا، وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا، ثُمَّ قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ هَكَذَا ". وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُثْمَانَ، وَهُوَ مُرْسَلٌ. وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ غَرِيبَةٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَالرِّوَايَةُ الْمَحْفُوظَةُ عَنْهُ غَيْرُهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے وضو فرمایا، اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا اور تین مرتبہ ناک جھاڑی، تین مرتبہ کلی کی اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا اور اپنے سر کا تین بار مسح کیا اور دونوں پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
(ب) عطاء بن ابی رباح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مرسلاً نقل فرماتے ہیں۔
(ج) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے غریب اسناد کے ساتھ منقول روایات بیان کر دی گئی ہیں، اس روایت کے علاوہ باقی محفوظ روایات ہیں۔
(ب) عطاء بن ابی رباح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مرسلاً نقل فرماتے ہیں۔
(ج) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے غریب اسناد کے ساتھ منقول روایات بیان کر دی گئی ہیں، اس روایت کے علاوہ باقی محفوظ روایات ہیں۔
حدیث نمبر: 297
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ، أنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَعَا بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ قَدْمَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ". وَهَكَذَا رَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ اللُّؤْلُؤِيُّ، وَأَبُو مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ ثَلَاثًا، فَرَوَاهُ زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، وَأَبُو عَوَانَةَ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ دُونَ ذِكْرِ التَّكْرَارِ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْجَمَاعَةُ عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا مَا شَذَّ مِنْهَا، ⦗١٠٥⦘ وَأَحْسَنُ مَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا، پھر وضو کیا، اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا اور تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، اپنے بازوؤں کو تین تین مرتبہ دھویا اور اپنے سر کا تین بار مسح کیا اور اپنے قدموں کو تین تین مرتبہ دھویا۔ پھر فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا۔“
(ب) امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے سر کے مسح کا تین دفعہ کرنا منقول ہے۔
(ج) خالد بن علقمہ والی روایت میں سر کے مسح کا تکرار نہیں ہے، اسی طرح ایک جماعت نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے شاذ روایت نقل کی ہے۔
(ب) امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے سر کے مسح کا تین دفعہ کرنا منقول ہے۔
(ج) خالد بن علقمہ والی روایت میں سر کے مسح کا تکرار نہیں ہے، اسی طرح ایک جماعت نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے شاذ روایت نقل کی ہے۔
حدیث نمبر: 298
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا، وَقَالَ: " هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ". هَكَذَا قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا. وَقَالَ فِيهِ حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے وضو کیا، اپنے چہرے اور ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا اور تین مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے پاؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ ابن وہب بھی اسی طرح فرماتے ہیں: سر کا تین مرتبہ مسح کیا۔
(ب) ابن جریج والی روایت میں ہے کہ اپنے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا۔
(ب) ابن جریج والی روایت میں ہے کہ اپنے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا۔
حدیث نمبر: 299
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، أنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّتَيْنِ ". وَأَخْرَجَهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ فِي كِتَابِ السُّنَنِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ هَكَذَا فِي مَسْحِ الرَّأْسِ مَرَّتَيْنِ، وَقَدْ خَالَفَهُ مَالِكٌ، وَوُهَيْبٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، وَخَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ وَغَيْرُهُمْ، فَرَوَوْهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى فِي مَسْحِ الرَّأْسِ مَرَّةً إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے وضو کیا، اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے ہاتھوں کو دو مرتبہ اور اپنے سر کا دو مرتبہ مسح کیا اور اپنے پاؤں کو دو مرتبہ دھویا۔
امام نسائی رحمہ اللہ نے ”کتاب السنن“ میں سفیان بن عیینہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے، جس میں سر کے مسح کا دو مرتبہ ذکر ہے۔
(ب) عمرو بن یحییٰ سر کا ایک مرتبہ مسح کرنا نقل فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہاتھوں کو آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لے آئے۔
امام نسائی رحمہ اللہ نے ”کتاب السنن“ میں سفیان بن عیینہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے، جس میں سر کے مسح کا دو مرتبہ ذکر ہے۔
(ب) عمرو بن یحییٰ سر کا ایک مرتبہ مسح کرنا نقل فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہاتھوں کو آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لے آئے۔
حدیث نمبر: 300
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو يُوسُفَ مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الصَّفَّارُ بِالْمِصِّيصَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الزُّمَّانِيُّ، ثنا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيَّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا قَالَ: فَحَدَّثَتْنَا أَنَّهُ قَالَ: " اسْكُبِي لِي وَضُوءًا " فَسَكَبْتُ لَهُ فِي مَيْضَاةٍ وَهِيَ الرَّكْوَةُ، فَأَخَذَ مُدًّا وَثُلُثًا، أَوْ مُدًّا وَرُبُعًا، فَقَالَ: " اسْكُبِي عَلَى يَدَيْ " فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " ضَعِي ". قَالَتْ: فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَنْظُرُ، فَوَضَّأَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّةً، وَوَضَّأَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، وَوَضَّأَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ يَبْدَأُ بِمُؤَخَّرِ رَأْسِهِ، ثُمَّ بِمُقَدَّمِهِ، ثُمَّ مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ ثُمَّ مَقَدَّمِهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِأُذُنَيْهِ كِلْتَيْهِمَا ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا، وَوَضَّأَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، وَوَضَّأَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثًا. وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ بِشْرٍ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: ثُمَّ مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ ثُمَّ مَقَدَّمِهِ، وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يُوسُفَ الْأَزْرَقِ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، يَأْخُذُ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مَاءً جَدِيدًا.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آیا کرتے تھے۔ راوی کہتا ہے: سیدہ ربیع رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”میرے لیے پانی ڈالو“، میں نے آپ کے لیے ایک چھوٹے برتن میں پانی ڈالا تو آپ نے ایک مد اور ایک تہائی یا چوتھائی حصہ پانی لیا، پھر فرمایا: ”میرے ہاتھ پر پانی ڈالو“، پھر آپ نے اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا اور فرمایا: ”اس (برتن) کو رکھ دے“۔ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور میں دیکھ رہی تھی کہ آپ ﷺ نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، کلی کی اور ایک مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا اور اپنے دائیں اور بائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا دو مرتبہ مسح کیا، اپنے سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا اور اگلے حصے تک لے آئے، پھر سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا اور اگلے حصے تک لے آئے، پھر اپنے کانوں کے ظاہری اور اندرونی حصوں کا مسح کیا اور اپنے دائیں اور بائیں پاؤں کو تین مرتبہ دھویا۔
(ب) ایک روایت میں ہے: پھر سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا، پھر اگلے حصے پر کیا۔
(ج) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ اپنے سر کا تین مرتبہ مسح کرتے تھے اور ہر مرتبہ نیا پانی لیتے تھے۔
(ب) ایک روایت میں ہے: پھر سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا، پھر اگلے حصے پر کیا۔
(ج) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ اپنے سر کا تین مرتبہ مسح کرتے تھے اور ہر مرتبہ نیا پانی لیتے تھے۔