کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مسح میں پورے سر کا احاطہ کرنے کے مختار و پسندیدہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 270
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ: " نَعَمْ " فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ. ⦗٩٨⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مَعْنٍ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن یحییٰ مازنی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عمرو بن یحییٰ کے دادا سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کا وضو کر کے دکھا سکتے ہیں؟“ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جی ہاں!“ پھر انہوں نے پانی منگوایا، اپنے ہاتھوں پر ڈالا اور انہیں دو دو مرتبہ دھویا، پھر کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، تین مرتبہ اپنے چہرے کو دھویا، پھر دو مرتبہ اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کا مسح کیا اور ہاتھ کو آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے لے آئے، یعنی سر کے اگلے حصے سے شروع کیا اور گدی تک لے گئے، پھر ان دونوں کو واپس لوٹایا اور اپنی جگہ لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے پاؤں کو دھویا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 270
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 183»
حدیث نمبر: 271
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وُضُوئِهِ قَالَ: فَمَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا مُقَدَّمَهُ وَمُؤَخَّرَهُ مَرَّةً، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا كَانَ طُهُورَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کی حدیث ذکر کی اور اپنے ہاتھوں سے سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر فرمایا: جس شخص کو اچھا لگے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے وضو کی طرف دیکھے تو یہ آپ ﷺ کا وضو ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 271
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 112»
حدیث نمبر: 272
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَإِذَا بَلَغَ مَسْحَ رَأْسِهِ وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ فَأَمَرَّهُمَا حَتَّى بَلَغَ الْقَفَاءَ، ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ". قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ: أَخْبَرَنِي حَرِيزٌ حَتَّى يَرْفَعَ.
حافظ ثناء اللہ
مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، جب آپ ﷺ سر کے مسح تک پہنچے تو اپنی ہتھیلیوں کو سر کے اگلے حصے پر رکھا، پھر ان کو گدی تک لے گئے، پھر اس جگہ واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا۔ (ب) حریز رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 272
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 123، 122»
حدیث نمبر: 273
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، أنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ الْمُغِيرَةُ بْنُ فَرْوَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ " تَوَضَّأَ لِلنَّاسِ كَمَا رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَلَمَّا بَلَغَ رَأْسَهُ غَرَفَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَتَلَقَّاهَا بِشِمَالِهِ حَتَّى وَضَعَهَا عَلَى وَسَطِ رَأْسِهِ حَتَّى قَطَرَ الْمَاءُ أَوْ كَادَ يَقْطُرُ، ثُمَّ مَسَحَ مِنْ مُقَدَّمِ رَأْسِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ، وَمِنْ مُؤَخَّرِهِ إِلَى مُقَدَّمِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو وضو کر کے دکھلایا، جس طرح رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، جب آپ اپنے سر تک پہنچے تو پانی کا ایک چلو لیا اور اس کو اپنے بائیں ہاتھ پر ڈالا، پھر اس کو اپنے سر کے درمیان رکھ دیا، یہاں تک کہ پانی بہہ گیا یا قریب تھا کہ بہہ پڑتا، پھر اپنے سر کے اگلے حصے سے پچھلے اور پچھلے حصے سے اگلے حصے تک مسح کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 273
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 124»