کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: سر کا مسح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 263
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَرَسِيِّ، أنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا، فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ كَمَا تَقَدَّمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حمران بن ابان فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ نے اپنے ہاتھ پر تین مرتبہ پانی ڈالا، پھر ان کو دھویا، پھر کلی کی اور ناک جھاڑا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر اسی طرح بائیں کو دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر تین مرتبہ اپنا دایاں پاؤں دھویا، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح وضو کرتے دیکھا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میرے اس وضو جیسا وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں اور اپنے دل کے اندر کوئی خیال پیدا نہیں کیا تو اس کے پہلے (گناہ) معاف کر دیے جائیں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 263
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 264
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٩٦⦘ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا الْحُسَيْنُ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ دَعَا بِوَضُوءٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: " ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ، ثُمَّ رَفَعَهُ بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا مَرَّةً، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِي آخِرِهِ: فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا۔۔۔
(ب) اس میں ہے کہ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس کو پانی میں ڈبو دیا، پھر پانی سے گیلے ہاتھ کو اٹھایا اور پھر اسے اپنے بائیں پر پھیرا، پھر ان دونوں ہاتھوں کے ساتھ ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا ۔۔۔
(ج) اس کے آخر میں ہے: ”جس شخص کو اچھا لگے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے وضو کی طرف دیکھے تو یہ آپ ﷺ کا وضو ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 264
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 265
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا ابْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا رَبِيعَةُ الْكِنَانِيُّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا، وَسُئِلَ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى الْمَاءُ يَقْطُرُ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
زر بن حبیش نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کے وضو کے بارے میں پوچھا گیا۔۔۔ اس میں ہے کہ آپ نے اپنے سر پر مسح کیا اور پانی کے قطرے بہہ رہے تھے اور اپنے پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کا وضو اس طرح تھا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 265
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 114»
حدیث نمبر: 266
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتُحِبُّونَ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ: ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنَ الْمَاءِ فَنَفَضَ يَدَهُ فَمَسَحَ بِهَا رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تم کو دکھاؤں، رسول اللہ ﷺ کس طرح وضو کرتے تھے؟ پھر آپ نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا۔۔۔ اس میں ہے کہ آپ نے پانی کا ایک چلو لیا، پھر اپنے ہاتھ کو صاف کیا اور اپنے سر اور کانوں کا مسح کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 266
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 147»