أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكِرْمَانِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الصَّائِغُ بِمَرْوَ، أنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، أنا عَبْدَانُ، أنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، أنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ ". هَذَا حَدِيثُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، وَزَادَ حَسَّانُ فِي حَدِيثِهِ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَذَكَرَهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے تو وہ ناک کو جھاڑے اور جو ڈھیلے استعمال کرے تو وہ طاق عدد میں استعمال کرے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، قَالَ: وَثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ يَطْلُبَانِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَجِدَاهُ، فَأَطْعَمَتْهُمَا عَائِشَةُ تَمْرًا وَعَصِيدًا، فَلَمْ يَلْبَثَا أَنْ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَقَلَّعُ يَتَكَفَّأُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هَلْ أَطْعَمَكُمَا أَحَدٌ؟ ". فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ. ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ: " أَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ، وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَبَالِغْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عاصم بن لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اور ان کا ساتھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کو تلاش کر رہے تھے لیکن انہوں نے آپ ﷺ کو نہ پایا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو کھجوریں اور آٹے کا حلوہ کھلایا۔ وہ زیادہ دیر نہیں ٹھہرے تھے کہ رسول اللہ ﷺ باوقار انداز میں چلتے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم دونوں کو کسی نے کوئی چیز کھلائی ہے؟“ میں نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول! پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں نماز کے بارے میں بتائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مکمل وضو کرو اور انگلیوں کا خلال کرو اور جب ناک میں پانی چڑھاؤ تو مبالغہ کرو مگر روزے کی حالت میں نہ کرو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: " إِذَا تَوَضَّأْتَ فَمَضْمِضْ ".
حافظ ثناء اللہ
ایک حدیث میں ہے: ”جب تو وضو کرے تو کلی کر۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ⦗٨٧⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ ". قَالَ: وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى مُرْسَلًا: لَمْ يَقُلْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ الشَّيْخُ: كَذَا فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَظُنُّهُ هُدْبَةَ أَرْسَلَهُ مَرَّةً، وَوَصَلَهُ أُخْرَى، وَتَابَعَهُ دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، عَنْ حَمَّادٍ فِي وَصْلِهِ، وَغَيْرُهُمَا يَرْوِيهِ مُرْسَلًا. وَكَذَلِكَ ذَكَرَهُ لِي أَبُو بَكْرٍ الْفَقِيهُ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ. قَالَ الشَّيْخُ: وَخَالَفَهُمَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخَلَّالُ، شَيْخٌ لِيَعْقُوبَ بْنِ سُفْيَانَ، فَقَالَ: عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَكِلَاهُمَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے“ کا حکم دیا۔
(ب) بعض اوقات راوی اس حدیث کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ چھوڑ کر مرسل بیان کرتا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: میرے گمان کے مطابق اس نے ایک دفعہ مرسل اور دوسری مرتبہ موصولاً بیان کیا۔
(ج) داؤد بن محیر بھی موصول بیان کرنے میں ان کی متابعت کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ باقی تمام رواۃ مرسل بیان کرتے ہیں۔
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یعقوب بن سفیان کے استاد ابراہیم بن سلیمان خلال نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے اور اسے حماد سے، انہوں نے عمار سے، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اور دونوں روایتیں غیر محفوظ ہیں۔
(ب) بعض اوقات راوی اس حدیث کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ چھوڑ کر مرسل بیان کرتا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: میرے گمان کے مطابق اس نے ایک دفعہ مرسل اور دوسری مرتبہ موصولاً بیان کیا۔
(ج) داؤد بن محیر بھی موصول بیان کرنے میں ان کی متابعت کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ باقی تمام رواۃ مرسل بیان کرتے ہیں۔
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یعقوب بن سفیان کے استاد ابراہیم بن سلیمان خلال نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے اور اسے حماد سے، انہوں نے عمار سے، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اور دونوں روایتیں غیر محفوظ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا عِصَامُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ مِنَ الْوُضُوءِ الَّذِي لَا بُدَّ مِنْهُ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرٍ الْبَلْخِيُّ، عَنْ عِصَامٍ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " مِنَ الْوُضُوءِ الَّذِي لَا تَتِمُّ الصَّلَاةُ إِلَّا بِهِ ". أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، قَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ عِصَامٌ، وَوَهِمَ فِيهِ، وَالصَّوَابُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى مُرْسَلًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيُمَضْمِضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا فرض ہے۔“
(ب) اسماعیل بن بشر بلخی نے بھی عصام سے اسی طرح بیان کیا ہے، مگر انہوں نے کہا: ”یہ اس وضو میں سے ہیں جس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی۔“
(ج) سلیمان بن موسیٰ نبی ﷺ سے مرسل بیان کرتے ہیں: ”جو شخص وضو کرے تو وہ کلی کرے اور ناک میں پانی چڑھائے۔“
عصام اس روایت میں منفرد ہیں اور انہیں اس میں وہم ہوا ہے، درست یہ ہے کہ یہ ابن جریج سے، وہ سلیمان بن موسیٰ سے مرسل منقول ہے۔
(ب) اسماعیل بن بشر بلخی نے بھی عصام سے اسی طرح بیان کیا ہے، مگر انہوں نے کہا: ”یہ اس وضو میں سے ہیں جس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی۔“
(ج) سلیمان بن موسیٰ نبی ﷺ سے مرسل بیان کرتے ہیں: ”جو شخص وضو کرے تو وہ کلی کرے اور ناک میں پانی چڑھائے۔“
عصام اس روایت میں منفرد ہیں اور انہیں اس میں وہم ہوا ہے، درست یہ ہے کہ یہ ابن جریج سے، وہ سلیمان بن موسیٰ سے مرسل منقول ہے۔
قَالَ عَلِيٌّ: حَدَّثَنَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيُمَضْمِضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ ". وَهَكَذَا رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُمَا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ. وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْأَزْهَرِ الْجَوْزَجَانِيُّ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى السِّينَانِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِإِسْنَادِ عِصَامٍ وَمَتْنِ الْجَمَاعَةِ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ: مُحَمَّدُ بْنُ الْأَزْهَرِ هَذَا ضَعِيفٌ. وَهَذَا خَطَأٌ، وَالْمُرْسَلُ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے تو اسے چاہیے کہ وہ کلی کرے اور ناک میں پانی چڑھائے۔“
محمد بن ازہر ضعیف ہے، اور یہ (موصول روایت) غلط ہے، مرسل زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔
محمد بن ازہر ضعیف ہے، اور یہ (موصول روایت) غلط ہے، مرسل زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔