کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دباغت سے چمڑے کے ظاہر کی طرح اس کے باطن کے پاک ہونے اور تمام مائعات (بہنے والی اشیاء) میں اس سے فائدہ اٹھانے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 53
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَعْلَةَ السَّبَائِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: إِنَّا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ فَتَأْتِينَا الْمَجُوسُ بِالْأَسْقِيَةِ فِيهَا الْمَاءُ، وَالْوَدَكُ فَقَالَ: اشْرَبْ. فَقُلْتُ: أَرَأْيٌ تَرَاهُ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " دِبَاغُهَا طَهُورُهَا ". رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن وعلہ سبائی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ہم مغرب میں ہوتے ہیں تو ہمارے پاس مجوسی مشکیزے لاتے ہیں جن میں پانی اور چربی ہوتی ہے؟ انہوں نے فرمایا: پی لیا کرو۔ میں نے کہا: کیا یہ آپ کی رائے ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: «دِبَاغُهُ طَهُورُهُ» ”اس کو رنگنا ہی اس کا پاک کرنا ہے۔“
حدیث نمبر: 54
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، أنا عَبْدَانُ، أنا عَبْدُ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَوْدَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " مَاتَتْ شَاةٌ لَنَا فَدَبَغْنَا مَسْكَهَا فَمَا زِلْنَا نَنْتَبِذُ فِيهِ حَتَّى صَارَ شَنًّا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، فَقَالَ: عَنْ مَيْمُونَةَ بَدَلَ سَوْدَةَ،.
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہماری ایک بکری مر گئی، ہم نے اسی کا چمڑا رنگ لیا اور ہم برابر اس میں نبیذ بناتے رہے حتیٰ کہ وہ مشکیزہ بن گیا۔
حدیث نمبر: 55
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ مَيْمُونَةَ، وَرَوَاهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے اپنی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے اور سماک بن حرب نے عکرمہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 56
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَاتَتْ فُلَانَةُ تَعْنِي الشَّاةَ؟ قَالَ: " فَلَوْلَا أَخَذْتُمْ ⦗٢٨⦘ مَسْكَهَا ". قَالَتْ: نَأْخُذُ مَسْكَ شَاةٍ قَدْ مَاتَتْ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى: {قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ} وَإِنَّكُمْ لَا تَطْعَمُونَهُ، إِنَّمَا تَدْبُغُونَهُ فَتَنْتَفِعُونَ بِهِ ". فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهَا فَسَلَخَتْ مَسْكَهَا، فَدَبَغَتْهُ، فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ قِرْبَةً حَتَّى تَخَرَّقَتْ عِنْدَهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! فلاں کی بکری مر گئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم نے اس کا چمڑا کیوں نہ اتارا؟“ انہوں نے عرض کیا: اس بکری کا چمڑا جو مر گئی؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ﴾ [سورة الأنعام: 145] کہہ دیجیے: میں اس وحی میں جو میری طرف کی گئی ہے کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا جسے وہ کھائے سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو۔ تم اس کو کھاتے نہیں، تم اس کو رنگتے ہو اور اس سے فائدہ حاصل کرتے ہو۔“ انہوں نے اس (بکری) کی طرف کسی کو بھیجا، اس نے اس کا چمڑا اتارا اور اسے رنگ کر مشکیزہ بنایا حتیٰ کہ وہ ان کے پاس ہی ختم ہو گیا۔
حدیث نمبر: 57
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَالْعَبَّاسُ النَّرْسِيُّ، أَنَّ أَبَا عَوَانَةَ، حَدَّثَهُمْ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عوانہ رحمہ اللہ نے اس کو اور دوسری ہم معنی روایت کو اپنی سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔