❮
❯
حدیث نمبر: 19481
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَالْمَصْبُورَةُ الشَّاةُ تُرْبَطُ ثُمَّ تُرْمَى بِالنَّبْلِ. وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: هُوَ الطَّائِرُ أَوْ غَيْرُهُ مِنْ ذَوَاتِ الرُّوحِ يُصْبَرُ حَيًّا ثُمَّ يُرْمَى حَتَّى يَقْتُلَ، وَأَصْلُ الصَّبْرِ الْحَبْسُ..
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور مصبورہ وہ بکری ہے جسے باندھ دیا جائے، پھر اس پر تیر برسائے جائیں۔“
اور ابو عبید رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس سے مراد پرندہ یا کوئی اور جان دار ہے جسے زندہ باندھ کر رکھا جائے، پھر اس پر تیر مارے جائیں یہاں تک کہ اسے مار ڈالا جائے، اور صبر کا اصل معنی روکنا (اور قید کرنا) ہے۔“...

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْكُلُ الدَّجَاجَ فَدَعَانِي فَقُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ نَتِنًا، قَالَ: ادْنُهْ فَكُلْ فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ أَيُّوبَ.
حافظ ثناء اللہ

زہدم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو مرغی کھاتے دیکھا تو انہوں نے مجھے دعوت دی۔ میں نے کہا: میں نے اس مرغی کو گندگی کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ (انہوں نے کہا:) ”قریب ہو کر کھا لو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مرغی کھاتے دیکھا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19481