❮
❯
حدیث نمبر: 18631
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ} [التوبة: 29]..
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ ’اہل کتاب میں سے ان لوگوں سے لڑو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ آخرت کے دن پر، اور نہ اس چیز کو حرام سمجھتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے، اور نہ دین حق کو اپناتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔‘ [سورة التوبة: 29]“...

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْ جَيْشٍ أَوْصَاهُ بِتَقْوَى اللهِ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، قَالَ: " إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ، فَأَيَّتُهُنَّ أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دَارَهُمْ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ مِثْلَ أَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللهِ الَّذِي كَانَ يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَادْعُهُمْ إِلَى إِعْطَاءِ الْجِزْيَةِ، فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا قَاتَلْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ، وَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا يَحْكُمُ اللهُ فِيهِمْ، وَلَكِنْ أَنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ ثُمَّ اقْضُوا فِيهِمْ بَعْدُ مَا شِئْتُمْ ". ⦗٣١١⦘ قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ عَلْقَمَةُ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ هُوَ ابْنُ هَيْصَمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب کبھی نبی کریم ﷺ کسی چھوٹے یا بڑے لشکر کا امیر مقرر فرماتے تو اس کو اپنے معاملات میں اللہ سے ڈرنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت فرماتے، نیز فرماتے کہ: ”جب تمہارا مشرک دشمنوں سے آمنا سامنا ہو تو انہیں تین باتوں کی دعوت دو، ان میں سے وہ جس بات کو تسلیم کر لیں مان لو اور ان سے رک جاؤ۔ پھر اسلام کی دعوت دو اگر قبول کر لیں تو ان پر حملہ نہ کرو۔ پھر انہیں دار الحرب چھوڑ کر دار الہجرت آنے کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ اگر وہ چلے آئیں گے تو انہیں مہاجرین کے حقوق میسر ہوں گے اور ان پر مہاجرین کی سی ذمہ داریاں عائد ہوں گی۔ اگر وہ دار الہجرت کی طرف منتقل ہونے سے انکار کریں اور اپنے گھروں کا انتخاب کریں تو انہیں بتلائیں کہ ان کا معاملہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوگا کہ ان پر دیگر ایمان داروں کی طرح اللہ تعالیٰ کے احکام نافذ ہوں گے۔ لیکن انہیں غنیمت اور مالِ فے سے مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کیے بغیر کچھ نہیں ملے گا۔ اگر وہ اس بات کو تسلیم نہ کریں تو ان سے جزیہ کا مطالبہ کرو۔ اگر وہ مان لیں تو ان سے جزیہ لے لو اور ان سے کچھ نہ کہو اور اگر وہ جزیہ سے انکار کریں تو اللہ سے مدد طلب کرتے ہوئے ان کے خلاف برسرِ پیکار ہو جاؤ۔ جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے اللہ کے حکم پر اتارے جانے کا مطالبہ کریں تو انہیں اللہ کے حکم پر نہ اتارنا کیونکہ تمہیں علم نہیں کہ اللہ ان کے بارے میں کیا فیصلہ فرمائے گا، بلکہ انہیں اپنے فیصلے پر اتارنا، پھر اس کے بعد ان کے بارے میں جو چاہو فیصلہ کرنا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18631