❮
❯
حدیث نمبر: 17046
قَدْ مَضَتِ الرِّوَايَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوَا عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے یہ روایت گزر چکی ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا): ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سے خطا، بھول چوک اور جس کام پر انہیں مجبور کیا گیا ہو، (ان سب کا مؤاخذہ) معاف فرما دیا ہے۔“

وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ " زَادَ غَيْرُهُ فِيهِ: وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهُ مَهْرًا وَفِي هَذَا الْإِسْنَادِ ضَعْفٌ مِنْ وَجْهَيْنِ: أَحَدُهُمَا أَنَّ الْحَجَّاجَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ، وَالْآخَرُ أَنَّ عَبْدَ الْجَبَّارِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ قَالَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عہدِ رسالت میں ایک عورت مجبور کی گئی تو آپ ﷺ نے اس پر سے حد کو ساقط کر دیا اور جس نے زبردستی کی تھی اسے حد لگائی۔
اس سند میں دو وجہ سے ضعف ہے: ایک یہ کہ حجاج نے عبدالجبار سے نہیں سنا، اور دوسری یہ کہ عبدالجبار نے اپنے والد سے نہیں سنا؛ یہ بات امام بخاری وغیرہ نے کہی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحدود / حدیث: 17046