السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الحلال يصيد صيدا في الحل ثم يدخل به الحرم باب: حلال (غیر محرم) شخص حل (حرم کے باہر) میں شکار کرے پھر اسے لے کر حرم میں داخل ہو۔
حدیث نمبر: 9994
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي بِنَيْسَابُورَ قَالَا: أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدَ يُحَدِّثُ فِي بَيْتِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أُهْدِيَ لَهَا طَيْرٌ أَوْ ظَبْيٌ فِي الْحَرَمِ فَأَرْسَلَتْهُ، فَقَالَ يَوْمَئِذٍ هِشَامٌ: " مَا عَلِمَ ابْنُ أَبِي رَبَاحٍ كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ تِسْعَ سِنِينَ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْدُمُونَ فَيَرَوْنَهَا فِي الْأَقْفَاصِ الْقُبَّارَى وَالْيَعَاقِيبَ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو ان سے کہنے لگا کہ میں نے اور میرے ساتھیوں نے گھوڑے دوڑائے اور ہم ثغر ثنیہ تک مقابلہ کر رہے تھے۔ ہم نے ایک ہرن کو پا لیا اور ہم محرم تھے، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے شخص سے کہا: آؤ ہم دونوں مل کر فیصلہ کریں، ان دونوں رضی اللہ عنہما نے ایک بکری کے فدیہ کا فیصلہ فرمایا۔ اس نے حدیث میں تذکرہ کیا کہ وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ [ضعیف۔ تقدم برقم: ٩٨٥٧]