❮
❯
حدیث نمبر: 9992
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ بِالطَّابَرَانِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ، أَحْسَبُهُ قَالَ: فَطِيمٌ، فَكَانَ إِذَا جَاءَ، قَالَ: " أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟ " كَانَ يَلْعَبُ بِهِ، وَرُبَّمَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ وَيُنْضَحُ، ثُمَّ يَقُومُ وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اخلاق کے اعتبار سے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے تھے۔ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، اسے ابوعمیر کہا جاتا تھا، وہ فطیم (دودھ چھڑایا ہوا) تھا۔ جب بھی آپ ﷺ تشریف لاتے تو فرماتے: ”اے ابوعمیر! چڑیا نے کیا کیا؟“ وہ اس کے ساتھ کھیلا کرتا تھا اور بعض اوقات نماز کا وقت آجاتا اور آپ ﷺ ہمارے گھر میں ہوتے، تو آپ ﷺ اپنے نیچے والی چٹائی کے بارے میں حکم فرماتے، تو اسے جھاڑو دے کر اور پانی چھڑک کر بچھا دیا جاتا۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوتے اور ہم بھی آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9992
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»