السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما جاء في حرم المدينة باب: مدینہ منورہ کے حرم کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ " أنا أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ خَطَبَ النَّاسَ فَذَكَرَ مَكَّةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا فَنَادَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَقَالَ: " مَا لِي أَسْمَعُكَ ذَكَرْتَ مَكَّةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا وَلَمْ تَذْكُرِ الْمَدِينَةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا؟ وَقَدْ حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا وَذَلِكَ عِنْدَنَا فِي أَدِيمٍ حَوْلَانِيٍّ إِنْ شِئْتَ أَقْرَأْتُكَهُ " قَالَ: فَسَكَتَ مَرْوَانُ ثُمَّ قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ بَعْضَ ذَلِكَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.نافع بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مروان بن حکم نے لوگوں کو خطبہ دیا، تو مکہ، اس کے رہنے والوں اور حرم کا تذکرہ کیا۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے آواز دی اور کہا: کیا بات ہے کہ میں تجھے سن رہا ہوں، تو مکہ، اس کے رہنے والوں اور اس کی حرمت کا بیان کر رہا ہے لیکن تم نے مدینہ، اس کے رہنے والوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ نہیں کیا، حالاں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا تھا“ اور یہ ہمارے پاس خولانی چمڑے میں لکھا ہوا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں پڑھا دیتا ہوں، راوی کہتے ہیں: مروان خاموش ہوگئے، پھر کہا: میں نے بھی بعض باتیں سن رکھی ہیں۔