حدیث نمبر: 9960
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا عَاصِمٌ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَحَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ؟ قَالَ: " نَعَمْ هِيَ حَرَامٌ حَرَّمَهَا اللهُ وَرَسُولُهُ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا فَمَنْ يَعْمَلْ بِذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدٍ وَفِي رِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ وَالْبَاقِي سَوَاءٌ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
حافظ ثناء اللہ

عامر بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔ اس کے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ ہی شکار قتل کیا جائے“ اور فرمایا: ”مدینہ ان کے لیے بہتر ہے، اگر وہ جانتے اور جو کوئی اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے نکلے تو اللہ اس میں بھلائی کو پیدا کر دے گا اور جو کوئی اس کی مشقت وغیرہ برداشت کرتے ہوئے اس میں ٹھہرا رہتا ہے، میں کل قیامت کے دن اس کا سفارشی اور گواہ ہوں گا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9960
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1363»