السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما جاء في حرم المدينة باب: مدینہ منورہ کے حرم کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 9958
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ ⦗٣٢٣⦘ الشِّيرَازِيُّ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي قِصَّةِ خَيْبَرَ، قَالَ: فَلَمَّا بَدَا لَنَا أُحُدٌ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے غزوہ خیبر کا طویل قصہ سنایا، جب احد ظاہر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ جب مدینہ کی طرف جھانکا تو فرمایا: ”اے اللہ! میں مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان کو حرم قرار دیتا ہوں جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔ اے اللہ! ان کے صاع اور مد میں برکت عطا فرما۔“