حدیث نمبر: 9927
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو الْيَمَانِ، أنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الصَّعْبُ: فَلَمَّا عَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّهُ هَدِيَّتِي فِي وَجْهِي، قَالَ: " لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو خبر دی کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ابواء، یا ودان نامی جگہ سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے آپ ﷺ کو ایک نیل گائے تحفہ میں دی، جب رسول اللہ ﷺ نے ان کے چہرہ میں کراہت دیکھی تو فرمایا: ”کسی وجہ سے رد نہیں کیا گیا، میں محرم ہوں اس لیے رد کیا ہے۔“
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ اس نے نبی ﷺ کو نیل گائے کا گوشت تحفہ میں دیا، آپ ﷺ نے واپس کر دیا، آپ ﷺ نے اس کے چہرہ پر ناراضگی کے آثار دیکھے تو فرمایا: ”میں نے صرف محرم ہونے کی وجہ سے رد کیا ہے اور کوئی وجہ نہیں۔“
(ج) سفیان نے حدیث میں بیان کیا ہے کہ میں نے آپ ﷺ کو نیل گائے کا گوشت تحفہ میں دیا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9927
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1194»