❮
❯
حدیث نمبر: 9925
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ اعْتَمَرَ مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَكْبٍ، فَأُهْدِيَ لَهُ طَائِرٌ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهِ وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: " أَنَأْكُلُ مِمَّا لَسْتَ مِنْهُ آكِلًا؟ " فَقَالَ: " إِنِّي لَسْتُ فِي ذَاكُمْ مِثْلَكُمْ، إِنَّمَا اصْطِيدَ لِي وَأُمِيتَ بِاسْمِي ".
حافظ ثناء اللہ

یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک قافلہ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر عمرہ کیا۔ ان کو ایک پرندہ تحفہ میں دیا گیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اسے کھانے کا حکم دیا اور خود کھانے سے انکار کر دیا تو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اس سے ہم کھائیں جس سے آپ نہیں کھا رہے؟ فرمانے لگے: اس میں میں تمہارے جیسا نہیں ہوں، کیوں کہ شکار میرے لیے کیا گیا ہے اور میرے نام پر ہی مارا گیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9925
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2434»