السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما لا يأكل المحرم من الصيد باب: محرم شکار میں سے جو نہیں کھا سکتا اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 9924
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْعَرْجِ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَقَدْ غَطَّى وَجْهَهُ بِقَطِيفَةِ أُرْجُوَانٍ، ثُمَّ أُتِيَ بِلَحْمِ صَيْدٍ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: " كُلُوا "، قَالُوا: أَلَا تَأْكُلُ أَنْتَ؟، قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنَّمَا صِيدَ مِنْ أَجْلِي ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو عرج مقام پر گرمی کے ایک دن دیکھا، آپ محرم تھے، انہوں نے اپنے چہرے کو سرخ چادر سے ڈھانپ رکھا تھا، پھر شکار کا گوشت لایا گیا، انہوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: کھاؤ۔ ساتھی کہنے لگے: کیا آپ نہ کھائیں گے؟ فرمانے لگے: میں تمہاری طرح نہیں کیونکہ شکار کیا ہی میری وجہ سے گیا ہے۔