السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يأكل المحرم من الصيد باب: محرم شکار میں سے جو کچھ کھا سکتا ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 9914
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ أَنَّهُ مَرَّ بِهِ قَوْمٌ مُحْرِمُونَ بِالرَّبَذَةِ فَاسْتَفْتَوْهُ فِي لَحْمِ صَيْدٍ وَجَدَهُ أُنَاسٌ أَحِلَّةٌ أَيَأْكُلُونَهُ؟ فَأَفْتَاهُمْ بِأَكْلِهِ، قَالَ: ثُمَّ قَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " بِمَ أَفْتَيْتَهُمْ؟ " قَالَ: قُلْتُ: أَفْتَيْتُهُمْ بِأَكْلِهِ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: " لَوْ أَفْتَيْتَهُمْ بِغَيْرِ ذَلِكَ لَأَوْجَعْتُكَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بیان کیا کہ مقامِ ربذہ میں ایک محرم جماعت ان کے پاس سے گزری تو انہوں نے ان سے شکار کے گوشت کے بارے میں فتویٰ پوچھا، جسے حلال (غیر محرم) لوگوں نے پایا تھا، کہ کیا وہ اسے کھا لیں؟ تو انہوں نے اس کے کھانے کا فتویٰ دیا، پھر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے: تم نے انہیں کیا فتویٰ دیا ہے؟ کہتے ہیں: میں نے انہیں کھانے کا فتویٰ دیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر تم اس کے سوا کوئی دوسرا فتویٰ دیتے تو میں تمہیں تکلیف دیتا۔