السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يأكل المحرم من الصيد باب: محرم شکار میں سے جو کچھ کھا سکتا ہے اس کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ أَنَّهُ مَرَّ بِهِ قَوْمٌ مُحْرِمُونَ بِالرَّبَذَةِ فَاسْتَفْتَوْهُ فِي لَحْمِ صَيْدٍ وَجَدَهُ أُنَاسٌ أَحِلَّةٌ أَيَأْكُلُونَهُ؟ فَأَفْتَاهُمْ بِأَكْلِهِ، قَالَ: ثُمَّ قَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " بِمَ أَفْتَيْتَهُمْ؟ " قَالَ: قُلْتُ: أَفْتَيْتُهُمْ بِأَكْلِهِ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: " لَوْ أَفْتَيْتَهُمْ بِغَيْرِ ذَلِكَ لَأَوْجَعْتُكَ ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک محرم جماعت مقامِ ربذہ سے گزری تو انہوں نے شکار کے گوشت کے بارے میں سوال کیا، جسے حلال (غیر محرم) لوگوں نے پایا تھا، کہ کیا وہ اسے کھا لیں؟ تو انہوں نے اس کے کھانے کا فتویٰ دیا، پھر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے: تم نے انہیں کیا فتویٰ دیا ہے؟ کہتے ہیں: میں نے انہیں کھانے کا فتویٰ دیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر تم اس کے سوا کوئی دوسرا فتویٰ دیتے تو میں تمہیں تکلیف دیتا۔
(ب) عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کعب احبار رحمہ اللہ شام سے محرم آدمیوں کے قافلہ میں آئے، ابھی وہ کسی راستے میں ہی تھے کہ انہوں نے شکار کا گوشت پا لیا تو کعب رحمہ اللہ نے انہیں اسے کھانے کا فتویٰ دے دیا، جب وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے ان کے سامنے اس کا تذکرہ کیا، انہوں نے پوچھا: کس نے تمہیں اس کے بارے میں فتویٰ دیا ہے؟ انہوں نے کہا: کعب نے۔ فرمانے لگے: میں نے کعب کو تمہارا امیر مقرر کر دیا ہے جب تک کہ تم واپس آؤ۔