السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يأكل المحرم من الصيد باب: محرم شکار میں سے جو کچھ کھا سکتا ہے اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ التَّيْمِيِّ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضُ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا فَأَخَذَ رُمْحَهُ فَشَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَى بَعْضُهُمْ فَلَمَّا أَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ، عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللهُ ".سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ مکہ کے کسی راستے میں تھے، وہ اپنے محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے اور وہ (خود) محرم نہ تھے، انہوں نے ایک نیل گائے دیکھی، وہ اپنے گھوڑے پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مجھے میرا کوڑا ہی پکڑا دو، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، انہوں نے نیزہ مانگا تب بھی انہوں نے انکار کر دیا، پھر سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اپنا نیزہ خود پکڑا اور سوار ہو گئے، انہوں نے جنگلی گدھے کا پیچھا کیا اور اس کو قتل کر دیا، بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس میں سے کھایا اور بعض نے کھانے سے انکار کر دیا، جب وہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو انہوں نے آپ ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو کھانا ہے جو اللہ رب العزت نے تمہیں کھلایا ہے۔“