السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : هل لمن أصاب الصيد أن يفديه بغير النعم؟ باب: کیا جس نے شکار مارا ہو وہ چوپایوں کے علاوہ کسی اور چیز سے اس کا فدیہ دے سکتا ہے؟
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِي جَزَاءِ الصَّيْدِ {هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَلِكَ صِيَامًا} [المائدة: 95] قَالَ: عَطَاءٌ: " أَيَّتَهُنَّ شَاءَ وَكُلُّ شَيْءٍ فِي الْقُرْآنِ، أَوْ، أَوْ، فَلْيَخْتَرْ مِنْهُ صَاحِبُهُ مَا شَاءَ ".اللہ جل ثناؤہ نے شکار کے بدلے کے بارے میں فرمایا: ﴿هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَلِكَ صِيَامًا﴾ ”ایسی قربانی جو کعبہ تک پہنچنے والی ہو یا کفارہ کے طور پر مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے، یا اس کے برابر روزے رکھنا ہے۔“ [سورة المائدة: 95]
امام عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان میں سے جو چاہے (اختیار کر لے)، اور قرآن مجید میں جہاں بھی (أَوْ، أَوْ) ”یا، یا“ کا لفظ آیا ہے، تو اس شخص کو اختیار ہے کہ وہ ان میں سے جسے چاہے چن لے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: ١٩٦] " لَهُ أَيَّتُهُنَّ شَاءَ " وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: " كُلُّ شَيْءٍ فِي الْقُرْآنِ أَوْ، أَوْ، لَهُ أَيُّهُ شَاءَ "، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: إِلَّا قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ} [المائدة: ٣٣] فَلَيْسَ بِمُخِيِّرٍ فِيهَا، ⦗٣٠٣⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ كَمَا قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَغَيْرُهُ فِي الْمُحَارِبِ وَغَيْرِهِ فِي الْمَسْأَلَةِ أَقُولُ.عمرو بن دینار رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ [سورة البقرة: 196] ”روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دے۔“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو چیز چاہے دے۔
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر چیز قرآن میں موجود ہے جو پسند کرے دے دے۔
ابن جریج رحمہ اللہ کا قول ہے سوائے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ [سورة المائدة: 33] ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں۔“ اس میں اختیار ہے۔