حدیث نمبر: 9864
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبا الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، أنبأ مُخَارِقٌ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَأَوْطَأَ رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ أَرْبَدُ ضَبًّا فَفَزَرَ ظَهْرَهُ فَقَدِمْنَا عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ أَرْبَدُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " احْكُمْ يَا أَرْبَدُ "، فَقَالَ: أَنْتَ خَيْرٌ مِنِّي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَعْلَمُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّمَا أَمَرْتُكَ أَنْ تَحْكُمَ فِيهِ، وَلَمْ آمُرْكَ أَنْ تُزَكِّيَنِي "، فَقَالَ أَرْبَدُ: أَرَى فِيهِ جَدْيًا قَدْ جَمَعَ الْمَاءَ وَالشَّجَرَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " فَذَاكَ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ

طارق بن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم حج کے لیے نکلے، ایک آدمی نے ہرن کو روند کر زخمی کر دیا، اس کا نام اربد تھا۔ ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو اربد نے سوال کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اربد کو حکم دیا کہ فیصلہ کرو، تو اربد کہنے لگے: اے امیر المومنین! آپ مجھ سے بہتر اور زیادہ بڑے عالم ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں نے تجھے فیصلے کا حکم دیا ہے نہ کہ تزکیہ کا، تو اربد نے بکری کے بچے کا فیصلہ سنایا۔ گویا کہ انہوں نے پانی اور درخت کو جمع کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسی طرح ہی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9864
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 8221»