حدیث نمبر: 982
أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي مِنْ سَفَرٍ فَضَمَّخُونِي بِالزَّعْفَرَانِ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يُرَحِّبْ بِي، وَلَمْ يَبَشَّ بِي، وَقَالَ: " اذْهَبْ وَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ " فَغَسَلْتُهُ عَنِّي فَجِئْتُهُ وَقَدْ بَقِيَ عَلَيَّ مِنْهُ شَيْءٌ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يُرَحِّبْ بِي وَلَمْ يَبَشَّ بِي وَقَالَ: " اذْهَبْ وَاغْسِلْ عَنْكَ هَذَا " فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، وَرَحَّبَ بِي وَقَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ جَنَازَةَ الْكَافِرِ بِخَيْرٍ، وَلَا الْمُتَضَمِّخَ بِالزَّعْفَرَانِ، وَلَا الْجُنُبَ، وَرُخِّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ أَنْ يَتَوَضَّأَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سفر سے اپنے گھر والوں کے پاس آیا تو انھوں نے مجھے زعفران لگا دی، جب میں نے صبح کی تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے مجھے مرحبا نہیں کہا اور نہ آپ میرے ساتھ خوش ہوئے اور فرمایا: ”جا اس کو اپنے آپ سے دھو دے۔“ میں نے اپنے سے اس کو دھویا اور اس کا کچھ نشان باقی تھا۔ میں نے آپ کو سلام کیا، لیکن آپ نے مجھے مرحبا نہیں کہا اور نہ آپ میرے ساتھ خوش ہوئے اور فرمایا: ”جا اس کو اپنے سے دھو دے۔“ میں نے پھر اپنے سے اس کو دھویا، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے میرے سلام کا جواب دیا اور مجھے مرحبا کہا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے بھلائی کے ساتھ کافر کے جنازے میں حاضر نہیں ہوتے اور نہ ہی اس کے پاس جس کو زعفران لگی ہو اور نہ جنبی کے پاس“ اور آپ ﷺ نے جنبی کو یہ رخصت دی ہے کہ جب کھانے یا سونے کا ارادہ کرے تو وضو کرلے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 982
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 4176»