السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: إدراك الحج بإدراك عرفة قبل طلوع الفجر من يوم النحر باب: قربانی کے دن کی فجر طلوع ہونے سے پہلے وقوفِ عرفہ پا لینے سے حج پا لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9816
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: " لَا يَفُوتُ الْحَجُّ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ "، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَبَلَغَكَ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ عَطَاءٌ: " نَعَمْ ".حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”حج فوت نہیں ہوتا یعنی نہیں رہ جاتا جب تک کہ مزدلفہ کی رات کے بعد فجر طلوع نہ ہو جائے۔“ کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: کیا یہ بات آپ کو نبی ﷺ سے پہنچی ہے؟ فرمانے لگے: ”ہاں۔“