السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: إدراك الحج بإدراك عرفة قبل طلوع الفجر من يوم النحر باب: قربانی کے دن کی فجر طلوع ہونے سے پہلے وقوفِ عرفہ پا لینے سے حج پا لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9813
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْمَرَ الدِّيلِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِعَرَفَاتٍ فَأَتَاهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَمَرُوا رَجُلًا فَنَادَى يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ الْحَجُّ، كَيْفَ الْحَجُّ؟ قَالَ: فَأَمَرَ رَجُلًا فَنَادَى: " الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ مَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةٌ مَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ " ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا مِنْ خَلْفِهِ فَنَادَى بِذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن یعمر دیلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ عرفات میں تھے، صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک گروہ آپ کے پاس آیا، انہوں نے ایک آدمی کو حکم دیا، اس نے آواز دی: ”اے اللہ کے رسول! حج کیسے ہوتا ہے؟“ آپ ﷺ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کرے: ”حج عرفہ کا دن ہے۔ جو عرفات میں رات کو صبح کی نماز سے پہلے آ گیا، اس کا حج مکمل ہے۔ منیٰ کے (قیام کے) تین دن ہیں۔ جو دو دن میں جلدی کرے (کنکر مارنے میں) اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ پھر آپ ﷺ نے ایک آدمی کو اپنے پیچھے سوار کیا تو اس نے یہ اعلان کیا۔