السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المفسد لعمرته يقضيها من حيث أحرم ما أفسد وكذلك المفسد لحجه باب: اپنے عمرے کو فاسد کرنے والا اس کی قضا وہیں سے کرے جہاں سے اس نے فاسد کیے گئے عمرے کا احرام باندھا تھا، اور اپنے حج کو فاسد کرنے والے کا بھی یہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 9811
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ، وَحَاضَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ حِينَ حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا وَقَدْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّفْرِ: " سَعْيُكِ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ " فَأَبَتْ فَبَعَثَ مَعَهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ وُهَيْبٍ.حافظ ثناء اللہ
ابن طاؤس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ کا احرام باندھا، لیکن بیت اللہ کے طواف سے پہلے حائضہ ہو گئیں، باقی سارے مناسک ادا کیے۔ انہوں نے حج کا تلبیہ کہا تو نبی ﷺ نے نفر کے دن ان سے فرمایا: ”حج و عمرہ کے لیے ایک طواف کافی ہے“ لیکن انہوں نے انکار کر دیا، تب نبی ﷺ نے ان کے ساتھ ان کے بھائی سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو مقامِ تنعیم تک روانہ کیا، پھر انہوں نے حج کے بعد عمرہ کیا۔