السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الترتيب في هدي التمتع وكل دم وجب بترك نسك باب: حجِ تمتع کی قربانی اور کسی نسک (عبادت) کے ترک کرنے پر واجب ہونے والے ہر دم (قربانی) میں ترتیب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَالَ لِلنَّاسِ: " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حُرِمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ، وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ شُعَيْبٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، وَرُوِّينَا، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الَّذِي يَفُوتُهُ الْحَجُّ فَإِنْ أَدْرَكَهُ الْحَجُّ قَابِلًا " فَلْيَحُجَّ إِنِ اسْتَطَاعَ وَلْيُهْدِ فِي حَجِّهِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ عَنْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ هَبَّارٍ حِينَ فَاتَهُ الْحَجُّ.سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک حدیث ذکر کی کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ آئے تو آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: ”جو تم میں سے قربانی ساتھ لے کر آیا ہے وہ حج کو مکمل کرنے تک حلال نہ ہوگا اور جو قربانی ساتھ نہیں لایا وہ بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کرے اور بال کٹوا کر حلال ہو جائے، پھر دوبارہ حج کا احرام باندھے اور قربانی کرے، جس کو قربانی میسر نہ ہو وہ تین دن کے روزے ایامِ حج میں رکھے اور سات روزے گھر واپس آکر رکھ لے۔“
(ب) نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس کا حج رہ جائے: اگر آئندہ سال حج اس کو پالے، اگر طاقت ہو (خرچہ موجود ہو) تو حج کرے اور قربانی بھی دے، اگر قربانی میسر نہ ہو تو ایامِ حج میں تین روزے رکھے اور سات روزے گھر واپس آکر۔
(ج) سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہبار کے قصہ کے بارے میں نقل کیا جس وقت اس کا حج رہ گیا تھا۔