السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يفسد الحج باب: ان امور کا بیان جو حج کو فاسد کر دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9779
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ سُئِلُوا عَنْ رَجُلٍ أَصَابَ أَهْلَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِالْحَجِّ، فَقَالُوا: " يَنْفُذَانِ لِوَجْهِهِمَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا، ثُمَّ عَلَيْهِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ وَالْهَدْيُ "، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " فَإِذَا أَهَلَّا بِالْحَجِّ عَامَ قَابِلٍ تَفَرَّقَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا ".حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہیں خبر ملی کہ سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جس نے حج کے احرام کی حالت میں اپنی بیوی سے مجامعت کر لی تھی، تو انہوں نے فرمایا کہ یہ دونوں اپنی حالت پر ہی رہیں گے یہاں تک کہ حج کو مکمل کر لیں، لیکن آئندہ سال ان پر دوبارہ حج کرنا لازم ہے اور قربانی کرنا بھی، اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب وہ آئندہ سال حج کا تلبیہ کہیں گے تو حج مکمل کرنے تک ایک دوسرے سے جدا رہیں گے۔