السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من كره أن يقال للمحرم: صفر، وأن النسيء من أمر الجاهلية باب: ان کا بیان جنہوں نے ماہِ محرم کو ”صفر“ کہنے کو مکروہ قرار دیا، اور اس بات کا بیان کہ نسیء (مہینوں کو آگے پیچھے کرنا) ایامِ جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: أَكْرَهُ أَنْ يُقَالَ لِلْمُحَرَّمِ: صَفَرٌ وَلَكِنْ يُقَالُ لَهُ: الْمُحَرَّمُ وَإِنَّمَا كَرِهْتُ أَنْ يُقَالَ لِلْمُحَرَّمِ: صَفَرٌ مِنْ قِبَلِ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَعْدُونَ فَيَقُولُونَ: صَفَرَانِ لِلْمُحَرَّمِ وَصَفَرٍ، وَيَنْسَئُونَ فَيَحُجُّونَ عَامًا فِي شَهْرٍ وَعَامًا فِي غَيْرِهِ، وَيَقُولُونَ: إِنْ أَخْطَأْنَا مَوْضِعَ الْحُرُمِ فِي عَامٍ أَصَبْنَاهُ فِي غَيْرِهِ فَأَنْزَلَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ} [التوبة: ٣٧] الْآيَةَ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَلَا شَهْرَ يُنْسَأُ " وَسَمَّاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَرَّمَ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں محرم کو صفر کہنا مکروہ خیال کرتا ہوں، اس کو محرم ہی کہا جائے اور صفر کو محرم کہنا صرف اس لیے مکروہ خیال کرتا ہوں کہ جاہلیت والے دو مہینوں یعنی صفر اور محرم کو صفر ہی شمار کرتے تھے اور محرم و صفر کو آگے پیچھے کر لیتے تھے؛ ایک سال حج کے مہینہ میں حج کرتے اور دوسرے سال کسی اور مہینہ میں، اور کہتے تھے کہ اس سال محرم کی جگہ پر ہم سے غلطی ہوگئی، آئندہ سال درست کر لیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ﴾ [سورة التوبة: 37] ”مہینہ کا سرکا دینا کفر میں زیادتی ہے۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زمانہ گھوم کر اسی حالت پر آ گیا ہے جس دن اللہ رب العزت نے آسمانوں و زمین کو پیدا کیا تھا۔“ ابھی کسی مہینہ کو آگے پیچھے نہ کیا جائے گا اور اس کا نام نبی ﷺ نے محرم رکھا۔