حدیث نمبر: 9759
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا رَوْحٌ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: " أَنْتَ تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ، قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ؟ " قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: " فَلَا تُفْتِ بِذَلِكَ "، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَمَّا لِي فَسَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ "، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَضْحَكُ وَيَقُولُ: " مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ ".
حافظ ثناء اللہ

طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، جب ان کو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا آپ یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ حائضہ طوافِ وداع کرنے سے پہلے ہی لوٹ جائے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں!“ وہ کہنے لگے: ”آپ یہ فتویٰ نہ دیں“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تو جا کر میرے لیے فلاں انصاری عورت سے پوچھ کہ کیا اس کو نبی ﷺ نے اس کا حکم دیا تھا؟“ تو وہ ہنستے ہوئے واپس آئے اور کہنے لگے: ”آپ نے سچ کہا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9759
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1328»