حدیث نمبر: 9727
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، إِمْلَاءً وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قِرَاءَةً قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ⦗٢٥٩⦘ كُلُّ نِسَائِكَ قَدْ دَخَلْنَ الْبَيْتَ غَيْرِي، قَالَ: فَاذْهَبِي إِلَى ذِي قَرَابَتِكِ فَلْيَفْتَحْ لَكِ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَفْتَحَ لِي، قَالَتْ: فَاحْتَمَلَ الْمَفَاتِيحَ ثُمَّ ذَهَبَ مَعَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا فَتَحْتُ الْبَابَ بِلَيْلٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَلَا فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ لِعَائِشَةَ: إِنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوَا الْبَيْتَ قَصُرَتْ بِهُمُ النَّفَقَةُ فَتَرَكُوا بَعْضَ الْبَيْتِ فِي الْحِجْرِ فَاذْهَبِي فَصَلِّي فِي الْحِجْرِ رَكْعَتَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے کہا: میرے سوا آپ کی تمام ازواج بیت اللہ میں داخل ہوئی ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے رشتہ داروں کے پاس جا، وہ تیرے لیے بھی دروازہ کھول دیں گے۔“ کہتی ہیں کہ میں گئی اور کہا کہ نبی ﷺ آپ کو حکم دیتے ہیں میرے لیے دروازہ کھولو۔ تو انہوں نے چابیاں اٹھائیں اور ان کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس پہنچا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ کی قسم، بیت اللہ کا دروازہ رات کے وقت نہ تو جاہلیت میں کھولا گیا ہے اور نہ اسلام میں۔ تو آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا: ”تیری قوم نے جب بیت اللہ تعمیر کیا تو ان کے پاس خرچہ کم ہو گیا، تو انہوں نے بیت اللہ کا کچھ حصہ منڈیر میں چھوڑ دیا، تو وہاں جا اور دو رکعتیں پڑھ لے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9727
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ احمد 6/ 67۔ طبراني اوسط 7098۔ ابوداود 2028۔ ترمذي 876»