السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: دخول البيت والصلاة فيه باب: بیت اللہ میں داخل ہونے اور اس میں نماز پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَأَبُو عِمْرَانَ التُّسْتَرِيُّ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ يَعْنِي مَكَّةَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الْآلِهَةُ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ، قَالَ: فَأَخْرَجُوا صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ فِي أَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَاتَلَهُمُ اللهُ أَمَا وَاللهِ لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّهُمَا لَمْ يَسْتَقْسِمَا بِهَا قَطُّ " قَالَ: فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عِمْرَانَ، وَحَدِيثُ الْقَاضِي مُخْتَصَرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ، ثُمَّ نَزَلَ وَلَمْ يُصَلِّ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ وَالْقَوْلُ قَوْلُ مَنْ قَالَ: صَلَّى؛ لِأَنَّهُ شَاهِدٌ وَالَّذِي قَالَ: لَمْ يُصَلِّ لَيْسَ بِشَاهِدٍ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ آئے تو انہوں نے بیت اللہ میں اس وقت تک داخل ہونے سے انکار کر دیا جب تک اس میں بت رکھے ہیں، آپ ﷺ نے حکم دیا اور ان بتوں کو نکالا گیا تو وہاں سے سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل علیہما السلام کے بت بھی نکلے جن کے ہاتھوں میں قسمت آزمائی کے تیر تھے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ ان کو ہلاک کرے، اللہ کی قسم! یہ لوگ جانتے ہیں کہ انہوں نے کبھی ان کے ساتھ قسمت آزمائی نہیں کی۔“ پھر آپ ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے، اس کے کونوں میں تکبیر کہی اور اس میں نماز نہیں پڑھی۔ یہ ابو عمران کی حدیث کے الفاظ ہیں اور قاضی کی حدیث مختصر ہے کہ نبی کریم ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے، ان کے کونوں میں تکبیر کہی، پھر اترے اور نماز نہیں پڑھی۔
اور درست بات اسی کی ہے جس نے یہ کہا ہے کہ آپ ﷺ نے نماز پڑھی ہے، کیونکہ وہ شاہد ہے اور جس نے یہ کہا ہے کہ آپ نے نماز نہیں پڑھی وہ گواہ نہیں ہے۔