السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: دخول البيت والصلاة فيه باب: بیت اللہ میں داخل ہونے اور اس میں نماز پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ فَدَعَا بِعُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ بِالْمِفْتَاحِ، فَجَاءَ بِهِ فَفَتَحَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُسَامَةُ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ مَلِيًّا، ثُمَّ فَتَحُوهُ "، قَالَ عَبْدُ اللهِ: " فَبَادَرْتُ النَّاسَ فَوَجَدْتُ بِلَالًا عَلَى الْبَابِ فَقُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ "، قَالَ: " وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى؟ "، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر سوار ہو کر داخل ہوئے حتیٰ کہ اسے کعبہ کے صحن میں بٹھایا، پھر عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے چابیاں منگوائیں، وہ لے کر آیا اور اس نے کعبہ کو کھولا تو نبی ﷺ، اسامہ، بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم داخل ہوئے اور انہوں نے تھوڑی دیر تک دروازہ بند کر لیا، پھر انہوں نے دروازہ کھولا تو میں جلدی سے آگے بڑھا تو بلال رضی اللہ عنہ کو دروازہ پر پایا۔ میں نے پوچھا: نبی ﷺ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: اگلے دو ستونوں کے درمیان، کہتے ہیں: میں یہ پوچھنا بھول ہی گیا کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟