حدیث نمبر: 9718
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ فَدَعَا بِعُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ بِالْمِفْتَاحِ، فَجَاءَ بِهِ فَفَتَحَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُسَامَةُ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ مَلِيًّا، ثُمَّ فَتَحُوهُ "، قَالَ عَبْدُ اللهِ: " فَبَادَرْتُ النَّاسَ فَوَجَدْتُ بِلَالًا عَلَى الْبَابِ فَقُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ "، قَالَ: " وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى؟ "، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ

ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر سوار ہو کر داخل ہوئے حتیٰ کہ اسے کعبہ کے صحن میں بٹھایا، پھر عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے چابیاں منگوائیں، وہ لے کر آیا اور اس نے کعبہ کو کھولا تو نبی ﷺ، اسامہ، بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم داخل ہوئے اور انہوں نے تھوڑی دیر تک دروازہ بند کر لیا، پھر انہوں نے دروازہ کھولا تو میں جلدی سے آگے بڑھا تو بلال رضی اللہ عنہ کو دروازہ پر پایا۔ میں نے پوچھا: نبی ﷺ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: اگلے دو ستونوں کے درمیان، کہتے ہیں: میں یہ پوچھنا بھول ہی گیا کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9718
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1329»