حدیث نمبر: 9705
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا ⦗٢٥٤⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ كَلَّمَتْهُ امْرَأَةٌ فِي مِحَفَّةٍ لَهَا وَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ فَرَفَعَتْهُ فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " لَهُ حَجٌّ وَلَكِ أَجْرٌ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس دوران کہ رسول اللہ ﷺ مکہ کے راستے میں چل رہے تھے، ایک عورت اپنے خیمے سے آپ ﷺ سے مخاطب ہوئی اور بچے کو بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے حج ہے اور تیرے لیے اجر ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9705
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»