السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: خطبة الإمام بمنى أوسط أيام التشريق باب: ایامِ تشریق کے درمیانی دن منیٰ میں امام کے خطبہ دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ النُّعْمَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو ⦗٢٤٧⦘ عَاصِمٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حِصْنٍ الْغَنَوِيِّ، حَدَّثَتْنِي سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْهَانَ، وَكَانَتْ رَبَّةَ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " هَلْ تَدْرُونَ أِيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ " قَالَ: وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي يَدْعُونَ يَوْمَ الرُّءُوسِ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " هَذَا أَوْسَطُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، هَلْ تَدْرُونَ أِيَّ بَلَدٍ هَذَا؟ " قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ " ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ هَذَا، أَلَا وَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ، فَيَسْأَلَكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلَا فَلْيُبَلِّغْ أَدْنَاكُمْ أَقْصَاكُمْ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ " فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ لَمْ يَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى مَاتَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ: قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الرُّءُوسِ.سراء بنت نہبان رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع میں یہ کہتے ہوئے سنا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا ہے؟“ اور یہ وہ دن تھا جسے «یَوْمُ الرُّؤُوسِ» (یوم الرؤس) کہا جاتا تھا، لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایام تشریق کا افضل دن ہے۔ کیا تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے۔“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ «الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ» (مشعر حرام) ہے“، پھر فرمایا: ”مجھے معلوم نہیں شاید میں تمہیں اس کے بعد مل سکوں یا نہ، خبردار! تمہارے مال، خون اور عزتیں تم پر تمہارے اس شہر میں اس دن کی طرح حرام ہیں حتیٰ کہ تم اپنے رب سے جا ملو تو وہ تمہارے اعمال کے بارے میں تم سے سوال کرے گا، خبردار! تمہارے قریب والے دور والے تک یہ بات پہنچا دیں، خبردار! کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟“ جب ہم مدینہ پہنچے تو آپ ﷺ کچھ ہی مدت بعد وفات پا گئے۔