حدیث نمبر: 9670
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَزْمِهْرَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ: " لَا حَرَجَ "، فَقَالَ الْآخَرُ: إِنِّي رَمَيْتُ بَعْدَمَا أَمْسَيْتُ، قَالَ: " لَا حَرَجَ "، فَمَا عَلِمْتُهُ سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ يَوْمَئِذٍ إِلَّا قَالَ: " لَا حَرَجَ "، وَلَمْ يَأْمُرْ بِشَيْءٍ مِنَ الْكَفَّارَةِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ میں نے ذبح کرنے سے پہلے ہی سر منڈوا لیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“، ایک دوسرے نے پوچھا کہ میں نے شام کے بعد رمی کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“، مجھے نہیں معلوم کہ آپ ﷺ سے اس دن کسی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا ہو اور آپ ﷺ نے ”کوئی حرج نہیں“ کے علاوہ کوئی اور جواب دیا ہو اور نہ ہی آپ ﷺ نے کسی کو کچھ کفارہ دینے کو کہا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9670
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 84 آخري جمله كي علاوه، اس آخري جمله پر كلام حديث نمبر: 9626 مين گزر چكي هي۔»