السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من شك في عدد ما رمى باب: اس شخص کا بیان جسے اپنی ماری ہوئی کنکریوں کی تعداد میں شک پڑ جائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: سُئِلَ طَاوُسٌ، عَنْ رَجُلٍ تَرَكَ حَصَاةً، قَالَ: يُطْعِمُ لُقْمَةً، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُجَاهِدٍ، فَقَالَ: أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَمْ يَسْمَعْ قَوْلَ سَعْدٍ، قَالَ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ: " رَجَعْنَا فِي حَجَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا مَنْ يَقُولُ: رَمَيْتُ بِسِتٍّ، وَمِنَّا مَنْ يَقُولُ: رَمَيْتُ بِسَبْعٍ فَلَمْ يَعِبْ ذَاكَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ ".ابن ابی نجیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طاؤس رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک کنکری چھوڑ دی تو انہوں نے کہا: وہ ایک لقمہ کھلائے، تو میں نے یہ بات مجاہد رحمہ اللہ کو ذکر کی تو انہوں نے کہا: ابو عبد الرحمن (طاؤس) رحمہ اللہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی بات نہیں سنی، سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے حج سے واپس لوٹے، ہم سے کوئی کہتا تھا: میں نے چھ کنکریاں ماری ہیں اور کوئی کہتا تھا: میں نے سات کنکریاں ماری ہیں تو کوئی بھی ایک دوسرے پر عیب نہ لگاتا تھا۔ [ضعیف۔ نسائی: 3077، احمد: 1/ 168، مجاہد رحمہ اللہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا]۔