السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الرجوع إلى منى أيام التشريق، والرمي بها كل يوم إذا زالت الشمس باب: ایامِ تشریق میں منیٰ کی طرف لوٹنے، اور وہاں ہر روز زوالِ آفتاب کے بعد رمی کرنے کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ وَبَرَةَ، قَالَ: قَامَ ابْنُ عُمَرَ حِينَ رَمَى الْجَمْرَةَ، عَنْ يَسَارِهَا، نَحْو مَا لَوْ شِئْتَ قَرَأْتَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ فِي حَزْرِ قِيَامِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " وَكَانَ قَدْرَ قِرَاءَةِ سُورَةِ يُوسُفَ "، وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ كَانَ يَقُومُ بِقَدْرِ قِرَاءَةِ سُورَةٍ مِنَ الْمِئِينَ "، وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْلُو فِي الْجَمْرَتَيْنِ إِذَا رَمَاهُمَا "، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَرْفُوعًا فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي، وَرُوِّينَا عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تُرْمَ الْجَمْرَةُ حَتَّى يَمِيلَ النَّهَارُ ".(الف) وبرہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جمرہ کو کنکریاں ماریں تو اتنی دیر تک اس کے پاس رکے کہ اگر تو چاہے تو سورہ بقرہ پڑھ سکتا ہے۔
(ب) ابو مجلز سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے قیام کے اندازے کے بارے میں منقول ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سورہ یوسف کی قراءت کے اندازے کے برابر ٹھہرتے اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ دو سو آیات والی سورت پڑھنے کے اندازے کے برابر کھڑے رہتے۔
عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ دونوں جمروں میں اونچے مقام پر رہتے، جب انھیں کنکریاں مارتے۔
(ج) اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے وادی کے وسط سے جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے کے بارے میں مرفوع روایت منقول ہے۔
(د) اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں: ”اس وقت تک جمرہ کو کنکریاں نہ مارو حتیٰ کہ دن ڈھل جائے۔“