السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الرجوع إلى منى أيام التشريق، والرمي بها كل يوم إذا زالت الشمس باب: ایامِ تشریق میں منیٰ کی طرف لوٹنے، اور وہاں ہر روز زوالِ آفتاب کے بعد رمی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9666
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: " لَا يَرْمِي الْجِمَارَ فِي الْأَيَّامِ الثَّلَاثِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ " وَعَنْ نَافِعٍ " أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فَيَقِفُ وُقُوفًا طَوِيلًا وَيُكَبِّرُ اللهَ وَيُسَبِّحُهُ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُو اللهَ لَا يَقِفُ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، وَعَنْ نَافِعٍ " أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُكَبِّرُ عِنْدَ رَمْيِ الْجِمَارِ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ تینوں دنوں میں رمیِ جمار نہیں کی جائے گی یہاں تک کہ سورج زائل ہو جائے اور نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلے دو جمروں کے پاس لمبی دیر تک رکتے، اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح و تکبیر بیان کرتے اور جمرہ عقبہ کے پاس نہ ٹھہرتے اور جب بھی جمروں کو کنکری مارتے تو تکبیر کہتے۔
نافع سے منقول ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رمیِ جمار کے وقت جب بھی کوئی کنکری مارتے، ساتھ ساتھ تکبیر بھی کہتے۔