السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: سقاية الحاج والشرب منها ومن ماء زمزم باب: حاجیوں کو پانی پلانے، اور اس سے اور آبِ زمزم سے پانی پینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ فَاسْتَسْقَى، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا فَضْلُ اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ فَأْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا، فَقَالَ: " اسْقِنِي "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ، قَالَ: " اسْقِنِي " فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ وَهُمْ يَسْقُونَ وَيَعْمَلُونَ فِيهَا، فَقَالَ: " اعْمَلُوا فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمِلٍ صَالِحٍ " ثُمَّ قَالَ: " لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَى هَذِهِ " يَعْنِي عَاتِقَهُ وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاهِينَ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ پانی پلانے والوں کی طرف آئے اور پانی طلب کیا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے فضل! جا اور جا کر اپنی ماں سے نبی ﷺ کے لیے مشروب لے کر آ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پلا“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ لوگ اس میں اپنے ہاتھ ڈالتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پلا“، آپ ﷺ نے اس سے پیا، پھر آپ ﷺ زمزم پر آئے اور وہ پلا رہے تھے اور اس میں کام کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”لگے رہو تم نیک کام کر رہے ہو“، پھر فرمایا: ”اگر یہ خدشہ نہ ہو کہ تم مغلوب ہوجاؤ گے تو میں اترتا اور رسی کو یہاں رکھتا“ اور آپ ﷺ نے اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا۔