السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: التحلل بالطواف إذا كان قد سعى عقيب طواف القدوم باب: طواف کر کے حلال ہو جانے کا بیان بشرطیکہ اس نے طوافِ قدوم کے فوراً بعد سعی کر لی ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفُضَيْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ ⦗٢٣٨⦘ سُفْيَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ فَمِنْ قَائِلٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا فَكَانَ يَقُولُ لَهُمْ: " لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ إِلَّا عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ، وَهُوَ ظَالِمٌ فَذَلَّ الَّذِي حَرَّجَ وَهَلَكَ " قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا اللَّفْظُ سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ غَرِيبٌ تَفَرَّدَ بِهِ جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ فَإِنْ كَانَ مَحْفُوظًا فَكَأَنَّهُ سَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ سَعَى عَقِيبَ طَوَافِ الْقُدُومِ قَبْلَ طَوَافِ الْإِفَاضَةِ، فَقَالَ: " لَا حَرَجَ " وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی ﷺ کے ساتھ حج کرنے نکلا، لوگ آپ ﷺ کے پاس آئے، کوئی کہتا: میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی ہے یا کچھ مقدم و مؤخر کر لیا ہے، تو آپ ﷺ ان کو فرماتے: ”کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں۔ سوائے اس آدمی کے جس نے مسلمان آدمی کی عزت خراب کی اور وہ ظالم تھا، تو یہی ہے جس پر حرج ہے اور وہ ہلاک ہو گیا۔“
شیخ فرماتے ہیں: «سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ» یہ الفاظ غریب ہیں، ان کو شیبانی سے بیان کرنے میں جریر منفرد ہے، اگر یہ محفوظ بھی ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا گویا کہ اس نے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جو طوافِ قدوم کے پیچھے سعی کرے، طوافِ افاضہ سے پہلے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ واللہ اعلم۔