أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: عَدَلَ إِلِيَّ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَقَالَ: مَا أَنْزَلَكَ تَحْتَ هَذِهِ السَّرْحَةِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: أَرَدْتُ ظِلَّهََا، فَقَالَ: هَلْ غَيْرَ ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ: أَرَدْتُ ظِلَّهَا، فَقَالَ: هَلْ غَيْرَ ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ: لَا مَا أَنْزَلَنِي غَيْرُ ذَلِكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كُنْتَ بَيْنَ الْأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًى " وَنَفَحَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ " فَإِِنَّ هُنَالِكَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ السُّرُرُ بِهِ سَرْحَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُونَ نَبِيًّا ".عمران انصاری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میری طرف آئے اور میں مکہ کے راستے میں سرحہ کے ایک درخت کے نیچے اترا ہوا تھا تو انہوں نے کہا: ”اس سرحہ کے درخت کے نیچے تجھے کس نے اتارا ہے؟“ میں نے کہا: ”میں سایہ لینے آیا ہوں۔“ تو انہوں نے کہا: ”اس کے علاوہ؟“ میں نے کہا: ”صرف سائے کے لیے ہی آیا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”اس کے علاوہ؟“ میں نے کہا: ”کچھ نہیں، اس کے علاوہ ادھر آنے کا اور کوئی مقصد نہیں۔“ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو منیٰ سے ان دو ٹیلوں کے درمیان ہو“ (اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا) ”تو وہاں پر ایک وادی ہے جس کو «سَرَر» کہا جاتا ہے، وہاں سرحہ کا ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر نبیوں کی نال کاٹی گئی۔“