حدیث نمبر: 9601
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ يُحَدِّثَانِهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلِيَّ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ فَصَارَ إِلِيَّ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَهْبٍ: " هَلْ أَفَضْتَ أَبَا عَبْدِ اللهِ؟ " قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " انْزِعْ عَنْكَ الْقَمِيصَ " فَنَزَعَهُ مِنْ رَأْسِهِ وَنَزَعَ صَاحِبُهُ قَمِيصَهُ مِنْ رَأْسِهِ، قَالَا: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْتُمْ مِنْهُ إِلَّا النِّسَاءَ، فَإِذَا أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا بِهَذَا الْبَيْتِ صِرْتُمْ حُرُمًا كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطُوفُوا " قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ جَارَةً لَهُمْ، قَالَتْ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِي عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مُتَقَمِّصِينِ عَشِيَّةَ يَوْمِ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيَّ عِشَاءً أَوْ قُمُصُهُمْ عَلَى أَيْدِيهِمْ يَحْمِلُونَهَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَيْ عُكَّاشَةُ مَا لَكُمْ خَرَجْتُمْ مُتَقَمِّصِينِ، ثُمَّ رَجَعْتُمْ وَقُمُصُكُمْ عَلَى أَيْدِيكُمْ تَحْمِلُونَهَا؟ فَقَالَ: خَيْرٌ يَا أُمَّ قَيْسٍ كَانَ هَذَا يَوْمًا رَخَّصَ ⦗٢٢٤⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا فِيهِ إِذَا نَحْنُ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ حَلَلْنَا مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْنَا مِنْهُ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ النِّسَاءِ حَتَّى نَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَإِذَا أَمْسَيْنَا وَلَمْ نَطُفْ جَعَلْنَا قُمُصَنَا عَلَى أَيْدِينَا، هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ بِالْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ دُونَ الْإِسْنَادِ الثَّانِي، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الذَّبْحَ أَيْضًا.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یومِ نحر کی شام کو رسول اللہ ﷺ کی میرے گھر باری تھی، آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور وہب بن زمعہ اور آلِ ابی امیہ کا ایک شخص قمیص پہنے ہوئے داخل ہوئے تو نبی ﷺ نے وہب سے پوچھا: ”ابوعبداللہ! کیا تو نے افاضہ کر لیا ہے؟“ کہنے لگا: نہیں، اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی قمیص اتار دے۔“ تو اس نے سر کی جانب سے اتار دی اور اس کے ساتھی نے بھی۔ ان دونوں نے کہا: اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس دن تمہیں رخصت دی گئی ہے کہ جب تم رمیِ جمار کر لو تو ہر وہ چیز جو تم پر حرام تھی تمہارے لیے عورتوں کے سوا حلال ہو جائے گی۔ لیکن جب شام ہو جائے اور بیت اللہ کا طواف ابھی تک نہ کیا ہو تو تم پہلے کی طرح پھر حرام ہو جاؤ گے، جس طرح تم رمیِ جمار کرنے سے پہلے تھے، حتیٰ کہ طواف کر لو۔“
ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی اور وہ ان کی پڑوسن تھیں، فرماتی ہیں کہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ یومِ النحر کی شام میرے پاس سے بنو اسد کے ایک قافلے میں روانہ ہوئے، ان سب نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، پھر جب عشاء کے وقت میرے پاس واپس لوٹے تو وہ اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے۔ فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے عکاشہ! یہ کیا ماجرا ہے کہ تم قمیصیں پہن کر گئے تھے لیکن جب واپس پلٹے ہو تو اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: خیریت ہے اے ام قیس! یہ وہ دن تھا جس کے بارے میں ہمیں رسول اللہ ﷺ نے رخصت دی تھی کہ ”جب ہم رمیِ جمار سے فارغ ہو جائیں تو ہر وہ چیز ہمارے لیے حلال ہو گئی تھی جو ہم پر حرام تھی سوائے عورتوں کے۔ یہاں تک کہ ہم بیت اللہ کا طواف نہ کر لیں، پس جب شام ہو گئی جب کہ ہم نے بیت اللہ کا طواف (ابھی تک) نہیں کیا تھا تو ہم نے قمیصوں کو اتار کر ہاتھوں میں رکھ لیا ہے۔“
اسی طرح اس کو امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کتاب السنن میں احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین رحمہما اللہ سے پہلی سند کے ساتھ روایت کیا ہے نہ کہ دوسری سند کے ساتھ ام قیس سے اور انہوں نے بھی (اسی طرح) ذبح (قربانی) کا ذکر نہیں کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9601
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ انظر قبله»